(۳۴۵۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عُمَرُ الشَّامَ کَانَ قَمِیصُہُ قَدْ تَجَوَّبَ عَنْ مُقْعَدَتِہِ ؛ قَمِیصٌ سُنْبُلاَنِیٌّ غَلِیظٌ فَأَرْسَلَ بِہِ إِلَی صَاحِبِ أَذْرَعَاتٍ ، أَوْ أَیْلَۃٍ ، قَالَ : فَغَسَلَہُ وَرَقَّعَہُ وَخَیَّطَ لَہُ قَمِیصَ قُبْطَرِی فَجَائَہُ بِہِمَا ، فَأَلْقَی إِلَیْہِ الْقُبْطَرِی فَأَخَذَہُ عُمَرُ فَمَسَّہُ ، فَقَالَ : ہَذَا لَیِّنٌ فَرَمَی بِہِ إِلَیْہِ ، وَقَالَ : أَلْقِ إِلَیَّ قَمِیصِی ، فَإِنَّہُ أَنْشَفُہُمَا لِلْعَرَقِ۔
(٣٤٥٤٥) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر شام آئے تو ان کی قمیص پیچھے کی جانب سے پھٹی ہوئی تھی، وہ ایک موٹی سنبلانی قمیص تھی۔ آپ نے وہ قمیص درزی کے پاس بھیجی وہ اس نے دھو کر رفو کی اور ان کے لیے ایک قبطری قمیص سی دی اور ان کی طرف دونوں قمیصوں کو لایا۔ اور قبطری قمیص آپ کی خدمت میں پیش کی۔ حضرت عمر نے اسے چھوا اور فرمایا کہ یہ نرم ہے۔ پھر آپ نے وہ قمیص اس کی طرف پھینک دی اور اس سے کہا میری قمیص مجھے دے دو وہ پسینے کو زیادہ جذب کرنے والی ہے۔