(۳۵۰۸۶) عَنِ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : أَرْضُ الْجَنَّۃِ مِنْ وَرِقٍ ، وَتُرَابُہَا مِسْکٌ ، وَأُصُولُ شَجَرِہَا ذَہَبٌ وَفِضَّۃٌ ، وَأَفْنَانُہَا لُؤْلُؤٌ وَزَبَرْجَدٌ وَیَاقُوتٌ ، وَالْوَرَقُ وَالثَّمَرُ تَحْتَ ذَلِکَ ، فَمَنْ أَکَلَ قَائِمًا لَمْ یُؤْذِہِ ، وَمَنْ أَکَلَ جَالِسًا لَمْ یُؤْذِہِ ، وَمَنْ أَکَلَ مُضْطَجِعًا لَمْ یُؤْذِہِ : {وَذُلِّلَتْ قُطُوفُہَا تَذْلِیلاً}۔
(طبری ۲۹)
(٣٥٠٨٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جنت کی زمین چاندی کی، اس کی مٹی مشک کی، اس کے درختوں کی جڑیں سونے اور چاندی کی، اس کی شاخیں موتی، زبر جد اور یا قوت کی ہیں، اس کے پتہ اور پھل اس کے نیچے ہیں، جو کھڑے ہو کر کھائے اس کو بھی نقصان نہیں، جو بیٹھ کر کھائے اس کو بھی نقصان نہیں اور جو لیٹ کر کھائے اس کو بھی نقصان نہ دے گا، پھر { وَذُلِّلَتْ قُطُوفُہَا تَذْلِیلاً } تلاوت فرمائی۔