(۳۵۱۴۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی الْہُذَیْلِ ؛ أَنَّ مُوسَی ، أَوْ غَیْرَہُ مِنَ الأَنْبِیَائِ ، قَالَ : یَا رَبِ ، کَیْفَ یَکُونُ ہَذَا مِنْک ؟ أَوْلِیَاؤُک فِی الأَرْضِ خَائِفُونَ یُقْتَلُونَ ، وَیُطْلبُونَ وَیُقَّطَّعُون ، وَأَعْدَاؤُک یَأْکُلُونَ مَا شَاؤُوا ، وَیَشْرَبُونَ مَا شَاؤُوا ، وَنَحْوَ ہَذَا ، فَقَالَ : انْطَلِقُوا بِعَبْدِی إِلَی الْجَنَّۃِ ، فَیَنْظُرُ مَا لَمْ یَرَ مِثْلَہُ قَطُّ ، إِلَی أَکْوَابٍ مَوْضُوعَۃٍ ، وَنَمَارِقَ مَصْفُوفَۃٍ وَزَرَابِیِّ مَبْثُوثَۃٍ ، وَإِلَی الْحُورِ الْعِینِ ، وَإِلَی الثِّمَارِ ، وَإِلَی الْخَدَمِ کَأَنَّہُمْ لُؤْلُؤٌ مَکْنُونٌ ، فَقَالَ : مَا ضَرَّ أَوْلِیَائِی مَا أَصَابَہُمْ فِی الدُّنْیَا إِذَا کَانَ مَصِیرُہُمْ إِلَی ہَذَا ؟ ثُمَّ قَالَ : انْطَلِقُوا بِعَبْدِی ، فَانْطَلِقْ بِہِ إِلَی النَّارِ ، فَیَخْرُجُ مِنْہَا عُنُقٌ فَصُعِقَ الْعَبْدُ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : مَا نَفَعَ أَعْدَائِی مَا أَعْطَیْتُہُمْ فِی الدُّنْیَا إِذَا کَانَ مَصِیرُہُمْ إِلَی ہَذَا ؟ قَالَ : لاَ شَیْئَ۔
(٣٥١٤٢) حضرت عبداللہ (رض) بن ابو الھذیل سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا اے اللہ ! یہ معاملہ آپ کی طرف سے کیسا عجیب ہوتا ہے ؟ آپ کے دوست (نیک لوگ) دنیا میں خوفزدہ رہتے ہیں ان کو قتل کیا جاتا ہے، ان کو پکڑا جاتا ہے پھر ان کے ٹکڑے کیے جاتے ہیں اور آپ کے دشمن جو چاہتے ہیں کھاتے ہیں اور جو چاہتے ہیں پیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : میرے بندے کو جنت کی سیر کر واؤ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہاں وہ نعمتیں دیکھیں جو اس سے پہلے نہ دیکھی تھیں، رکھے ہوئے پیالے، سیدھے رکھے ہوئے تکیے اور بکھرے ہوئے کپڑے، اور حورعین اور مختلف پھل اور خدام جیسے کہ وہ چھپے ہوئے موتی ہوں ان سب کی سیر کروائی گئی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : جب میرے دوستوں کا ٹھکانا یہ ہو تو دنیا میں جو بھی تکالیف انھیں پہنچے ان کو نقصان ہے ؟ پھر ارشاد فرمایا : میرے بندے کو جہنم کی سیر کر واؤ، چنانچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جہنم لے جایا گیا، اس میں ایک جماعت دیکھی، ان کو دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوگئے، پھر آپ کو کچھ افاقہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرے دشمنوں کا ٹھکانا یہ ہو تو پھر دنیا میں ان کو جو بھی نعمتیں ملیں ان کو فائدہ ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کچھ بھی نہیں۔