(۳۵۱۴۳) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حدَّثَنِی عَنْبَسَۃُ بْنُ سَعِیدٍ قَاضِیَّ الرَّیِّ، عَنْ جَعْفَرٍ بْنِ أَبِی الْمُغِیرَۃِ، عَنْ شِمْر بْنِ عَطِیَّۃَ ، عَنْ کَعْبٍ ، قَالَ : إِنَّ لِلَّہِ مَلِکًا ، مِنْ یَوْمِ خُلِقَ یَصُوغُ حُلِیَّ أَہْلِ الْجَنَّۃِ إِلَی أَنْ تَقُومَ السَّاعَۃُ، وَلَوْ أَنَّ قَلْبَاً مِنْ حُلِیِّ أَہْلِ الْجَنَّۃِ أُخْرِجَ لَذَہَبَ بِضَوْئِ شُعَاعِ الشَّمْسِ ، فَلاَ تَسْأَلُوا بَعْدَہَا عَنْ حُلِیِّ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔
(احمد ۱۶۹)
(٣٥١٤٣) حضرت کعب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا فرمایا ہے، جس دن سے اس کو پیدا کیا گیا ہے وہ جنتیوں کیلئے زیور تیا رکر رہا ہے اور قیامت تک تیار کرتا رہے گا، اگر ان زیورات میں سے ایک کنگن بھی دنیا پر ظاہر کردیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑجائے، پس اس کے بعد جنت کے زیورات کے متعلق سوال نہ کرنا۔