(۳۵۱۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبِیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنِّی لأَعْرِفُ آخِرَ أَہْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ ، رَجُلٌ یَخْرُجُ مِنْہَا زَحْفًا ، فَیُقَالَ لَہُ : انْطَلِقْ فَادْخُلَ الْجَنَّۃَ ، قَالَ : فَیَذْہَبُ فَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ ، فَیَجِدُ النَّاسَ قَدَ اتَّخَذُوا الْمَنَازِلَ ، قَالَ : فَیَرْجِعُ فَیَقُولُ : یَا رَبِ ، قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ ، قَالَ : فَیُقَالَ لَہُ : أَتَذْکُرُ الزَّمَانَ الَّذِی کُنْتَ فِیہِ ؟ فَیَقُولُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَیُقَالَ لَہُ : تَمَنَّ ، فَیَتَمَنَّی ، فَیُقَالَ : لَکَ ذَلِکَ الَّذِی تَمَنَّیْتَ وَعَشَرَۃُ أَضْعَافِ الدُّنْیَا ، قَالَ : فَیَقُولُ لَہُ : أَتَسْخَرُ بِی وَأَنْتَ الْمَلِکُ ؟ قَالَ : فَلَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ۔
(بخاری ۶۵۷۱۔ مسلم ۱۷۴)
(٣٥١٥٠) حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشاد فرمایا : میں اس آخری شخص کو بھی جانتا ہوں جو جہنم سے نکلے گا یہ وہ شخص ہوگا جو جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا اس کو کہا جائے گا چلو اور جنت میں داخل ہوجاؤ وہ جائے گا اور جنت میں داخل ہوجائے گا وہ وہاں جائے گا تو لوگ پہلے ہی رتبہ حاصل کرچکے ہوں گے۔ وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا اے اللہ ! لوگوں نے تو اپنے رتبے حاصل کرلیے ہیں اس سے کہا جائے گا کیا تجھے وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو تھا ؟ وہ عرض کرے گا جی اس سے کہا جائے گا تو تمنا اور خواہش کر وہ خواہش کرے گا اسے کہا جائے گا جو تو نے خواہش کی ہے یہ بھی تیرے لیے ہے اور دنیا سے دس گنا زیادہ بھی تیرے لیے ہے وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! آپ بادشاہ ہو کر مجھ سے مزاق کر رہے ہیں ؟ راوی فرماتے ہیں کہ یہ بات بیان کر کے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتنا مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں مبارک میں نے دیکھیں۔