(۳۵۲۵۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ مَیْسَرَۃَ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ کَعْبًا : مَا سِدْرَۃُ الْمُنْتَہَی ؟ فَقَالَ : سِدْرَۃٌ یَنْتَہِی إِلَیْہَا عِلْمُ الْمَلاَئِکَۃِ ، وَعِنْدَہَا یَجِدُونَ أَمْرَ اللہِ لاَ یُجَاوِزُہَا عِلْمُہُمْ ، وَسَأَلْتُہُ عَنْ جَنَّۃِ الْمَأْوَی ؟ فَقَالَ : جَنَّۃٌ فِیہَا طَیْرٌ خُضْرٌ ، تَرْتَقِی فِیہَا أَرْوَاحُ الشُّہَدَائِ۔
(٣٥٢٥٣) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت کعب سے دریافت کیا سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے ؟ حضرت کعب نے فرمایا : وہ ایک درخت ہے یہاں پر ملائکہ کا علم ختم ہوجاتا ہے وہاں وہ اللہ کا حکم پاتے ہیں وہاں سے ان کا علم تجاوز نہیں کرتا، میں نے ان سے جنت الماوی کے متعلق دریافت کیا ؟ حضرت کعب فرمایا : وہ جنت ہے جس میں سبز پرندے ہیں جس میں شہداء کی روحیں جاتی ہیں۔