(۳۵۲۶۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍوَ، قَالَ: حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : جَلَسْنَا إِلَی کَعْبِ الأَحْبَارِ فِی الْمَسْجِدِ وَہُوَ یُحَدِّثُ ، فَجَائَ عُمَرُ ، فَجَلَسَ فِی نَاحِیَۃِ الْقَوْمِ، فَنَادَاہُ ، فَقَالَ : وَیْحُک یَا کَعْبُ ، خُوِّفْنَا ، فَقَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، إِنَّ النَّارَ لَتُقَرَّبُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، لَہَا زَفِیرٌ وَشَہِیقٌ ، حَتَّی إِذَا أُدْنِیَتْ وَقُرِّبَتْ ، زَفَرَتْ زَفْرَۃً مَا خَلَقَ اللَّہُ مِنْ نَبِیٍّ ، وَلاَ صِدِّیقٍ ، وَلاَ شَہِیدٍ ، إِلاَّ وَجَثَا لِرُکْبَتَیْہِ سَاقِطًا، حَتَّی یَقُولَ کُلُّ نَبِیٍّ، وَکُلُّ صِدِّیقٍ، وَکُلُّ شَہِیدٍ: اللَّہُمَّ لاَ أُکَلِّفُک الْیَوْمَ إِلاَّ نَفْسِی، وَلَوْ کَانَ لَکَ یَابْنَ الْخَطَّابِ عَمَلُ سَبْعِینَ نَبِیًّا، لَظَنَنْت أَنْ لاَ تَنْجُوَ، قَالَ عُمَرُ: وَاللہِ إِنَّ الأَمْرَ لَشَدِیدٌ۔
(٣٥٢٦٥) حضرت یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت کعب بن احبار (رض) کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے وہ حدیث بیان کر رہے تھے، حضرت عمر (رض) تشریف لائے اور لوگوں کے کنارے پر تشریف فرما ہوگئے پھر ان کو پکارا اور کہا اے کعب تیرا ناس ہو، آج آپ نے ہمیں خوف زدہ کردیا حضرت کعب نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، قیامت کے دن آگ قریب ہوجائے گی اس کیلئے چیخ و پکار ہوگی یہاں تک کہ جب وہ قریب ہوجائے گی تو وہ ایک مرتبہ سانس لے گی اس کی ہیبت کی وجہ سے تمام انبیاء صدیقین اور شہداء گھٹنوں کے بل جھک جائیں گے، اور پھر ہر نبی صدیق اور شہید کہے گا : اے اللہ آج میں آپ سے صرف اپنا ہی سوال کرتا ہوں اور اے ابن خطاب ! اگر تیرے لیے نبیوں کا عمل بھی ہو پھر بھی تجھے خوف ہوگا کہ تیری نجات نہ ہوگی حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : خدا کی قسم معاملہ بہت زیادہ سخت ہے۔