(۳۵۲۷۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اشْتَکَتِ النَّارُ إِلَی رَبِّہَا ، فَقَالَتْ : رَبِّ أَکَلَ بَعْضِی بَعْضًا ، فَجَعَلَ لَہَا نَفْسَیْنِ : نَفْسًا فِی الصَّیْفِ ، وَنَفْسًا فِی الشِّتَائِ ، فَشِدَّۃُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْہَرِیرِہَا ، وَشِدَّۃُ مَا تَجِدُونَ فِی الصَّیْفِ مِنَ الْحَرِّ مِنْ سَمُومِہَا۔ (بخاری ۳۲۶۰۔ مسلم ۱۸۵)
(٣٥٢٧٤) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جہنم نے اللہ تعالیٰ سے شکایت کی اور کہا اے اللہ ! میرے بعض حصہ نے بعض کھالیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے دو سانس متعین فرما دیئے، ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس سردی میں پس سردی میں جو تم شدت پاتے ہو وہ اس کی سردی کی وجہ سے ہوتی ہے اور گرمیوں میں جو تم گرمی میں شدت پاتے ہو وہ اس کی گرمی کی وجہ سے ہے۔