(۳۵۲۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؛ أَنَّہُ قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : عَمُّک أَبُو طَالِبٍ ، یَحُوطُکَ ، وَیَغْضَبُ لَکَ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہُ لَفِی ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ ، وَلَوْلاَ أَنَا لَکَانَ فِی الدَّرْکِ الأَسْفَلِ۔
(بخاری ۶۲۰۸۔ احمد ۲۰۶)
(٣٥٢٩٧) حضرت عباس بن عبدالمطلب نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ آپ کے چچا نے آپ کی حفاظت کی ہے اور آپ کیلئے کفار پر غصہ کیا ہے کیا ان کو بھی عذاب ہوگا ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ ٹخنوں تک آگ میں ہیں اگر میں سفارش نہ کرتا تو وہ سب سے نچلے درجہ میں ہوتے۔