(۳۵۳۲۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَزْرَقُ بْنُ قَیْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ ، قَالَ : کُنَّا عِنْدَ أَبِی الْعَوَّامِ ، فَقَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ : {عَلَیْہَا تِسْعَۃَ عَشَرَ}) ، فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ : تِسْعَۃَ عَشَرَ أَلْفَ مَلَکٍ ، أَوْ تِسْعَۃَ عَشَرَ مَلَکًا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : لاَ ، بَلْ تِسْعَۃَ عَشَرَ مَلَکًا ، قَالَ : وَمِنْ أَیْنَ تَعْلَمُ ذَلِکَ ؟ فَقُلْتُ ، لأَنَّ اللَّہَ یَقُولُ : {وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ إِلاَّ فِتْنَۃً لِلَّذِینَ کَفَرُوا} ، قَالَ : صَدَقْتَ، بِیَدِ کُلِّ مَلَکٍ مِرْزَبَّۃٌ مِنْ حَدِیدٍ لَہَا شُعْبَتَانِ ، فَیَضْرِبُ الضَّرْبَۃَ ، فَیَہْوِی بِہَا سَبْعِینَ أَلْفَ مَلَکٍ ، مَا بَیْنَ مَنْکِبَیْ کُلِّ مَلَکٍ مِنْہُمْ مَسِیرَۃُ کَذَا وَکَذَا۔
(٣٥٣٢٣) بنو تمیم کے ایک شخص سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم ابو عوام کے پاس تھے انھوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی { عَلَیْہَا تِسْعَۃَ عَشَرَ } اور فرمایا تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ انیس ہزار فرشتے ہیں یا صرف انیس ؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا انیس انھوں نے دریافت فرمایا تمہیں کہاں سے معلوم ہوا ؟ میں نے عرض کیا کہ اس لیے کہ اللہ فرماتے ہیں { وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ إِلاَّ فِتْنَۃً لِلَّذِینَ کَفَرُوا } انھوں نے فرمایا کہ تو نے ٹھیک کہا ہر فرشتہ کے ہاتھ میں ایک ہتھوڑا ہے جو لوہے کا ہے اور اس کے دو کونے ہیں وہ اس سے ایک مرتبہ مارتا ہے تو اس سے ستر ہزار فرشتے گرتے ہیں ہر فرشتے کے دو کندھوں کے درمیان اتنی اتنی مسافت ہوتی ہے۔