(۳۵۳۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، قَالَ : لَمَّا مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ ، قَالُوا لَہُ : أَرْسِلْ إِلَی ابْنِ أَخِیک ہَذَا ، فَیَأْتِیک بِعَنْقُودٍ مِنْ جَنَّتِہِ ، لَعَلَّہُ یَشْفِیَک بِہِ ، قَالَ : فَجَائَ الرَّسُولُ ، وَأَبُو بَکْرٍ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : إِنَّ اللَّہَ حَرَّمَہُمَا عَلَی الْکَافِرِینَ۔ (ابن ابی حاتم ۸۵۳۶)
(٣٥٣٢٢) حضرت ابو صالح سے مروی ہے کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کے پاس کسی کو بھیجو تاکہ وہ تمہارے پاس جنت سے انگور کا کوئی خوشہ لائے شاید کہ اس سے آپ کو شفاء مل جائے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو اس وقت حضرت ابوبکر صدیق (رض) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر اس کو (جنت کی نعمتوں کو) حرام کردیا ہے۔