(۳۵۳۵۳) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَ أَبَا مُوسَی الْوَفَاۃُ ، قَالَ : یَا بَنِیَّ ، اُذْکُرُوا صَاحِبَ الرَّغِیفِ ، قَالَ : کَانَ رَجُلٌ یَتَعَبَّدُ فِی صَوْمَعَۃٍ أَرَاہُ ، قَالَ : سَبْعِینَ سَنَۃً ، لاَ یَنْزِلُ إِلاَّ فِی یَوْمِ أَحَدٍ ، قَالَ : فَنَزَلَ فِی یَوْمِ أَحَدٍ ، قَالَ : فَشُبِّہَ ، أَوْ شَبَّ الشَّیْطَانُ فِی عَیْنِہِ امْرَأَۃً ، فَکَانَ مَعَہَا سَبْعَۃَ أَیَّامٍ وَسَبْعَ لَیَالٍ ، قَالَ : ثُمَّ کُشِفَ عَنِ الرَّجُلِ غِطَاؤُہُ فَخَرَجَ تَائِبًا ، فَکَانَ کُلَّمَا خَطَا خُطْوَۃً صَلَّی وَسَجَدَ ، قَالَ : فَآوَاہُ اللَّیْلُ إِلَی دُکَّانٍ عَلَیْہِ اثْنَا عَشَرَ مِسْکِینًا ، فَأَدْرَکَہُ الإِعْیَائَ ، فَرَمَی بِنَفْسِہِ بَیْنَ رَجُلَیْنِ مِنْہُمْ۔
وَکَانَ ثَمَّ رَاہِبٌ یَبْعَثُ إِلَیْہِمْ کُلَّ لَیْلَۃٍ بِأَرْغِفَۃٍ ، فَیُعْطِی کُلَّ إِنْسَانٍ رَغِیفًا ، فَجَائَ صَاحِبُ الرَّغِیفِ فَأَعْطَی کُلَّ إِنْسَانٍ رَغِیفًا ، وَمَرَّ عَلَی ذَلِکَ الَّذِی خَرَجَ تَائِبًا ، فَظَنَّ أَنَّہُ مِسْکِینٌ فَأَعْطَاہُ رَغِیفًا ، فَقَالَ الْمَتْرُوکُ لِصَاحِبِ الرَّغِیفِ : مَا لَکَ لَمْ تُعْطِنِی رَغِیفِی ؟ مَا کَانَ إِلَیَّ عَنْہُ غِنًی ، قَالَ : تُرَانِی أُمْسِکُہُ عَنْک ؟ سَلْ : ہَلْ أَعْطَیْتُ أَحَدًا مِنْکُمْ رَغِیفَیْنِ ؟ قَالُوا : لاَ ، قَالَ : إِنِّی أَمْسِکُ عَنْک ، وَاللہِ لاَ أُعْطِیک شَیْئًا اللَّیْلَۃَ ، قَالَ : فَعَمَدَ التَّائِبُ إِلَی الرَّغِیفِ الَّذِی دَفَعَہُ إِلَیْہِ ، فَدَفَعَہُ إِلَی الرَّجُلِ الَّذِی تُرِکَ ، فَأَصْبَحَ التَّائِبُ مَیِّتًا ، قَالَ : فَوُزِنَتِ السَّبْعُونَ سَنَۃً بِالسَّبْعِ اللَّیَالِی فَلَمْ تَزِنْ ، قَالَ : فَوُزِنَ الرَّغِیفُ بِالسَّبْعِ اللَّیَالِی ، قَالَ : فَرَجَحَ الرَّغِیفُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی : یَا بَنِیَّ اُذْکُرُوا صَاحِبَ الرَّغِیفِ۔
(٣٥٣٥٣) حضرت ابو بردہ (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابو موسیٰ کا وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا اے میرے بیٹو ! روٹی والے شخص کو یاد کرو ایک شخص تھا جو اپنے گرجے میں ستر سال سے عبادت کرتا رہا پھر وہ ایک دن اترا تو شیطان اس کی آنکھوں میں عورت کے مشابہ بن کر آیا وہ اس کے ساتھ سات دن اور سات راتیں بدکاری کرتا رہا پھر اس پر اس کی غلطی ظاہر ہوئی تو وہ توبہ کرنے کیلئے نکل پڑا جب بھی قدم اٹھاتا تو نماز پڑھتا اور سجدہ کرتا اور رات کو ایک دکان میں ٹھکانا پکڑا جس میں بارہ مسکین تھے وہ بہت زیادہ تھک گیا تھا اس نے اپنے آپ کو دو شخصوں کے درمیان ڈال دیا۔
وہاں ایک راہب تھا جو ہر روز ان کی طرف ایک روٹی بھیجتا تھا اور ہر شخص کو ایک روٹی دیتا تھا پھر وہ روٹی والا آیا اور اس نے ہر شخص کو ایک روٹی دی اور اس شخص کے پاس سے بھی گزرا جو توبہ کرنے کیلئے گرجا سے نکلا تھا اس نے خیال کیا کہ وہ بھی مسکین ہے اس کو بھی روٹی دے دی ان میں سے ایک شخص نے جس کو چھوڑ دیا گیا تھا روٹی والے سے کہا کیا ہوا کہ تم نے میری روٹی مجھے نہ دی ؟ اس نے کہا کہ پوچھو کیا میں نے تم میں سے کسی کو دو روٹیاں دی ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں اس نے کہا کہ میں نے تجھ سے روک لیا ہے خدا کی قسم آج رات تجھے کچھ نہ دوں گا، توبہ کرنے والے شخص نے روٹی کی طرف ارادہ کیا جو اس کو دی گئی تھی وہ اس نے اس کو دے دی جس کو چھوڑ دیا گیا تھا، صبح کو وہ توبہ کرنے والا شخص مردہ پایا گیا، اس کے ستر سالوں کی نیکیوں کو ان سات راتوں کے گناہ کے ساتھ تولا گیا تو وہ نہ وزن ہوئیں، پھر اس روٹی کو ان سات راتوں کے ساتھ وزن کیا گیا تو روٹی والا پلڑا جھک گیا۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے ارشاد فرمایا اس روٹی والے کو یاد کرو۔