(۳۵۳۵۲) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی الزَّعْرَائِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّ رَاہِبًا عَبَدَ اللَّہَ فِی صَوْمَعَتِہِ سِتِّینَ سَنَۃً ، فَجَائَتِ امْرَأَۃٌ فَنَزَلَتْ إِلَی جَنْبِہِ ، فَنَزَلَ إِلَیْہَا فَوَاقَعَہَا سِتَّ لَیَالٍ ، ثُمَّ سُقِطَ فِی یَدِہِ ، فَہَرَبَ ، فَأَتَی مَسْجِدًا ، فَأَوَی إِلَیْہِ ، فَمَکَثَ ثَلاَثًا لاَ یَطْعَمُ شَیْئًا ، فَأُتِیَ بِرَغِیفٍ ، فَکَسَرَ نِصْفَہُ ، فَأَعْطَی نِصْفَہُ رَجُلاً عَنْ یَمِینِہِ ، وَأَعْطَی آخَرَ عَنْ یَسَارِہِ ، فَبَعَثَ اللَّہُ إِلَیْہِ مَلَکَ الْمَوْتِ فَقَبَضَ رُوحَہُ ، فَوُضِعَ عَمَلُ السِّتِّینَ سَنَۃً فِی کِفَّۃٍ ، وَوُضِعَتِ السَّیِّئَۃُ فِی کِفَّۃٍ ، فَرَجَحَتِ السَّیِّئَۃُ ، ثُمَّ جِیئَ بِالرَّغِیفِ فَرَجَحَ بِالسَّیِّئَۃِ۔
(٣٥٣٥٢) حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ عبداللہ نامی ایک راہب تھا جو ساٹھ سال تک اپنے گرجے میں عبادت کرتا رہا، ایک خاتون اس کے پڑوس میں آئی اس راہب نے اس کے ساتھ چھ راتیں بدکاری کی پھر وہ بھاگ کر مسجد چلا گیا اور وہاں پر ٹھکانا پکڑ لیا تین دن گزر گئے اس نے کچھ نہ کھایا اس کے پاس ایک روٹی لائی گئی اس نے اس کو دو حصے کر کے آدھی روٹی اپنے دائیں شخص کو دے دی اور آدھی بائیں شخص کو دے دی اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو بھیجا جس نے اس کی روح قبض کرلی اس کا ساٹھ سالوں کا عمل ایک ترازو میں رکھا گیا اور اس کے گناہوں کو دوسرے پلڑے میں رکھا تو گناہوں والا پکڑا جھک گیا پھر وہ روٹی رکھی گئی تو وہ پلڑا گناہوں والے پلڑے سے بھاری ہوگیا۔