(۳۵۳۶۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہَمَّامِ بْنِ یَحْیَی ، قَالَ : حدَّثَنَا قَتَادَۃُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ : کُنْتُ آخِذًا بِیَدِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، فَأَتَاہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : کَیْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ فِی النَّجْوَی ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ یُدْنِی الْمُؤْمِنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتَّی یَضَعَ عَلَیْہِ کَنَفَہُ ، یَسْتُرُہُ مِنَ النَّاسِ ، فَیَقُولُ : أَیْ عَبْدِی ، تَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا وَکَذَا ؟ فَیَقُولُ : نَعَمْ ، أَیْ رَبِّ، ثُمَّ یَقُولُ: أَیْ عَبْدِی، تَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا وَکَذَا؟ فَیَقُولُ: نَعَمْ، أَیْ رَبِّ، حَتَّی إِذَا قَرَّرَہُ بِذُنُوبِہِ، وَرَأَی فِی نَفْسِہِ أَنَّہُ قَدْ ہَلَکَ ، قَالَ: فَإِنِّی قَدْ سَتَرْتُہَا عَلَیْک فِی الدُّنْیَا ، وَقَدْ غَفَرْتُہَا لَکَ الْیَوْمَ ، ثُمَّ یُؤْتَی بِکِتَابِ حَسَنَاتِہِ، وَأَمَّا الْکُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ، فَیَقُولُ الأَشْہَادُ: {ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ کَذَبُوا عَلَی رَبِّہِمْ، أَلاَ لَعَنَۃُ اللہِ عَلَی الظَّالِمِینَ}۔
(بخاری ۲۴۴۱۔ مسلم ۲۱۲۰)
(٣٥٣٦٢) حضرت صفوان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ان کے پاس ایک شخص آیا اور دریافت کیا کہ آپ (رض) نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے النجویٰ کے متعلق کیا سنا ہے ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مومن کو قریب کریں گے یہاں تک کہ اس پر اپنا دست رحمت رکھ دیں گے اس کو لوگوں سے چھپا دیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے بندے ! تو فلاں فلاں گناہوں کو جانتا ہے ؟ وہ عرض کرے گا جی ہاں میرے رب پھر اللہ تعالیٰ وہی فرمائیں گے اور بندہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ جب وہ گناہوں کا اقرار کرے گا اور اس کو یقین ہوجائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوگیا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تجھ پر دنیا میں ساری چادر ڈال رکھی اور آج ان کو معاف کرچکا ہوں پھر اس کو حسنات کا اعمال نامہ دیا جائے گا بہرحال کفار اور منافقین پس گواہ اس کے متعلق کہیں گے کہ { ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ کَذَبُوا عَلَی رَبِّہِمْ ، أَلاَ لَعَنَۃُ اللہِ عَلَی الظَّالِمِینَ }۔