hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 35360

.

ابن أبي شيبة

35360
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۳۶۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہَمَّامِ بْنِ یَحْیَی ، قَالَ : حدَّثَنَا قَتَادَۃُ ، عَنْ أَبِی الصِّدِّیقِ النَّاجِی ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : لاَ أُخْبِرکُمْ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ مِنْ فِی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ ، وَوَعَاہُ قَلْبِی ، إِنَّ عَبْدًا قَتَلَ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ نَفْسًا ، ثُمَّ عُرِضَتْ لَہُ التَّوْبَۃُ ، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَہْلِ الأَرْضِ ؟ فَدُلَّ عَلَی رَجُلٍ فَأَتَاہُ ، فَقَالَ : إِنِّی قَتَلْتُ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ نَفْسًا ، فَہَلْ لِی مِنْ تَوْبَۃٍ ؟ قَالَ : بَعْدَ قَتْلِ تِسْعَۃٍ وَتِسْعِینَ نَفْسًا ؟ قَالَ : فَانْتَضَی سَیْفَہُ فَقَتَلَہُ ، فَأَکْمَلَ بِہِ مِئَۃ۔ ثُمَّ عُرِضَتْ لَہُ التَّوْبَۃُ ، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَہْلِ الأَرْضِ ؟ فَدُلَّ عَلَی رَجُلٍ فَأَتَاہُ ، فَقَالَ : إِنِّی قَتَلْتُ مِئَۃَ نَفْسٍ ، فَہَلْ لِی مِنْ تَوْبَۃٍ ؟ قَالَ : وَمَنْ یَحُولُ بَیْنَکَ وَبَیْنَ التَّوْبَۃِ ؟ اُخْرُجْ مِنَ الْقَرْیَۃِ الْخَبِیثَۃِ الَّتِی أَنْتَ فِیہَا إِلَی الْقَرْیَۃِ الصَّالِحَۃِ ، قَرْیَۃِ کَذَا وَکَذَا ، فَاعْبُدْ رَبَّک فِیہَا ، قَالَ : فَخَرَجَ یُرِیدُ الْقَرْیَۃَ الصَّالِحَۃَ ، فَعُرِضَ لَہُ أَجَلُہُ فِی الطَّرِیقِ ، قَالَ : فَاخْتَصَمَ فِیہِ مَلاَئِکَۃُ الرَّحْمَۃِ ، وَمَلاَئِکَۃُ الْعَذَابِ ، فَقَالَ إِبْلِیسُ : أَنَا أَوْلَی بِہِ ، إِنَّہُ لَمْ یَعْصِنِی سَاعَۃً قَطُّ ، قَالَ : فَقَالَتْ مَلاَئِکَۃُ الرَّحْمَۃِ : إِنَّہُ خَرَجَ تَائِبًا۔ قَالَ ہَمَّامٌ : فَحَدَّثَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْمُزَنِیِّ ، عَنْ أَبِی رَافِعٍ ، قَالَ : فَبَعَثَ اللَّہُ إِلَیْہِ مَلَکًا فَاخْتَصَمُوا إِلَیْہِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی حَدِیثِ قَتَادَۃَ۔ فَقَالَ : اُنْظُرُوا أَیَّ الْقَرْیَتَیْنِ کَانَتْ أَقْرَبَ إِلَیْہِ فَأَلْحِقُوہُ بِہَا۔ قَالَ : فَحَدَّثَنِی الْحَسَنُ ، قَالَ : فَلَمَّا عَرَفَ الْمَوْتَ احْتَفَزَ بِنَفْسِہِ ، فَقَرَّبَ اللَّہُ مِنْہُ الْقَرْیَۃَ الصَّالِحَۃَ ، وَبَاعَدَ مِنْہُ الْقَرْیَۃَ الْخَبِیثَۃَ ، فَأَلْحَقَہُ بِأَہْلِ الْقَرْیَۃِ الصَّالِحَۃِ۔ (بخاری ۳۴۷۰۔ مسلم ۲۱۱۸)
(٣٥٣٦١) حضرت ابو سعید الخدری (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک شخص نے ایک کم سو بندوں کو قتل کیا پھر اس کو توبہ کا خیال آیا اس نے عالم کے متعلق دریافت کیا تو اس کو ایک عالم کے بارے میں خبر دی گئی تو وہ اس عالم کے پاس آیا اور کہا میں نے ننانوے قتل کیے ہیں کیا میں توبہ کرسکتا ہوں ؟ عالم نے کہا ننانوے قتلوں کے بعد بھی توبہ ؟ اس شخص نے اپنی تلوار نکال کر اس کو بھی قتل کر کے سو کی تعداد مکمل کردی۔ پھر اس کو توبہ کا خیال آیا اس نے کسی عالم کے متعلق دریافت کیا اس کو ایک عالم کا بتایا گیا تو وہ اس عالم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے سو قتل کیے ہیں کیا میں توبہ کرسکتا ہوں ؟ عالم نے اس سے کہا کہ اس بستی سے نکل جا جس میں تو ہے اور کسی نیکو کاروں کی بستی میں چلا جا، فلاں بستی میں چلا جا اور اپنے رب کی عبادت کر وہاں جا کر وہ شخص اس بستی میں جانے کیلئے نکلا، راستے میں اس کی موت کا وقت آگیا اس کے متعلق رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کا مخاصمہ ہوگیا، ابلیس نے کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ اس نے کبھی ایک لمحہ بھی میری نافرمانی نہیں کی، رحمت کے فرشتوں نے کہا : یہ توبہ کے ارادہ سے نکلا تھا، اللہ نے ایک فرشتہ اور بھیجا وہ اپنا جھگڑا اس کے پاس لے گئے، اس فرشتہ نے کہا کہ دونوں بستیوں کو دیکھ لو کونسی بستی اس کے زیادہ قریب ہے جو قریب ہو اس کے ساتھ اس کو ملا دو ، جب اس شخص کو اپنی موت کا علم ہوا تو اس نے اپنے آپ کو گھسیٹا اس نیکو کاروں کی بستی کی طرف، اللہ تعالیٰ نے اس کو نیکو کاروں کی بستی کے قریب کردیا اور اس نے بروں کی بستی کو دور کردیا پس اس کو نیک لوگوں کی بستی کے ساتھ ملا دیا گیا۔