(۳۵۴۰۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عن الحسن ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إن داود عَلَیْہِ السَّلاَمُ قَالَ : یَا رَبِ ، إنَّ بَنِی إسْرَائِیلَ یَسْأَلُونَک بِإِبْرَاہِیمَ ، وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ ، فَاجْعَلْنِی یَا رَبِّ لَہُمْ رَابِعًا ، قَالَ : فَأَوْحَی اللَّہُ إلَیْہِ : یَا دَاوُد ، إنَّ إبْرَاہِیمَ أُلْقِیَ فِی النَّارِ فِی سببی فَصَبَرَ فِیَّ وَتِلْکَ بَلِیَّۃٌ لَمْ تَنَلْک ، وَإِنَّ إِسْحَاقَ بَذَلَ مہجۃ دمہ فی سببی فَصَبَرَ ، وََتِلْکَ بَلِیَّۃٌ لَمْ تَنَلْک ، وَإِنَّ یَعْقُوبَ أَخَذَتُ حَبِیبُہُ حَتَّی ابْیَضَّتْ عَیْنَاہُ فَصَبَرَ ، وَتِلْکَ بَلِیَّۃٌ لَمْ تَنَلْک۔
(٣٥٤٠٣) حضرت احنف بن قیس نبی اکرم (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے رب ! بیشک بنی اسرائیل آپ سے ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب ۔ (تین نبیوں) کے وسیلہ سے سوال کرتے ہیں ، تو آپ مجھے بھی ان کے ساتھ چوتھا بنا دیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف (یہ) وحی نازل فرمائی : اے داؤد ! ابراہیم کو میری (توحید بیان کرنے کی) وجہ سے آگ میں ڈالا گیا تو انھوں نے (اس پر) صبر کیا، اور آپ اس امتحان سے نہیں گزرے۔ اسحق 1 کو میری (رضا کی) خاطرنذرانہ جان پیش کرنا پڑا، تو انھوں نے (بھی اس پر) صبر کیا، اور آپ پر یہ آزمائش نہیں آئی۔ اور یعقوب ان کے تو محبوب کو میں نے ان سے جدا کئے رکھا ، یہاں تک کہ (رو رو کر) ان کی آنکھوں میں سفیدی اتر آئی، تو انھوں نے (بھی اس پر) صبر کیا، اور آپ سے یہ ابتلا (بھی) دور رہی۔