(۳۵۴۲۳) حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ أَبِی یُونُسَ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ عَمِّ حَنْظَلَۃَ کَاتِبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ اللَّہَ أَوْحَی إِلَی مُوسَی : أَنَّ قَوْمَک زَیَّنُوا مَسَاجِدَہُمْ وَأَخْرَبُوا قُلُوبَہُمْ ، وَتَسَمَّنُوا کَمَا تُسَمَّنُ الْخَنَازِیرُ لِیَوْمِ ذَبْحِہَا ، وَإِنِّی نَظَرْت إلَیْہِمْ فَلَعَنْتُہُمْ ، فَلاَ أَسْتَجِیبُ دُعَائَہُمْ ، وَلاَ أُعْطِیہِمْ مَسَائِلَہُمْ۔
(٣٥٤٢٣) حضرت حنظلہ (رض) جو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کاتب ہیں ان کے چچا زاد بھائی نے بیان فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی : بیشک آپ کی قوم نے مساجد کو (تو) سجا سنوار رکھا ہے ، مگر اپنے دلوں کا حال خراب کر رکھا ہے۔ اور (کثرت اکل کی وجہ) سے یوں پھول چکے ہیں جیسے خنزیروں کو ذبح کرنے کے لیے موٹا کیا جاتا ہے۔ میں ان (کی اس بری حالت) کو دیکھ کر ان پر لعنت کرتا ہوں ، نہ تو میں ان کی دعا قبول کرتا ہوں اور نہ ان کی مطلوبہ چیز انھیں عطا کرتا ہوں۔