(۳۵۴۲۴) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، أَنَّ دَاوُد صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَجَدَ حَتَّی نَبَتَ مَا حَوْلَہُ خَضْرَائُ مِنْ دُمُوعِہِ ، فَأَوْحَی اللَّہُ إلَیْہِ : یَا دَاوُد مَا تُرِیدُ ، تُرِیدُ أَنْ أَزِیدَک فِی مَالِکِ وَوَلَدِکَ وَعُمْرِکَ ، قَالَ : یَا رَبِ ، ہَذَا ترد عَلَیَّ فَغُفِرَ لَہُ۔
(٣٥٤٢٤) حضرت عبید بن عمیر سے مروی ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے (گریہ وزاری کے ساتھ) اتنا طویل سجدہ فرمایا کہ ان کے آنسوؤں (کی نمی سے) ان کے ارد گرد سبزہ اگ آیا۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی : اے داؤد (علیہ السلام) تم کیا چاہتے ہو ؟ کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے مال و اولاد اور عمر میں اضافہ کر دوں۔ تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے (عجزو انکسار کے ساتھ شکوہ کرتے ہوئے) عرض کیا : اے میرے پروردگار ! کیا (آپ کے نزدیک میں دنیا سے محبت کرنے والا اور دنیا کو چاہنے والا ہوں کہ میری طویل آہ وزاری کے نتیجہ میں) آپ نے مجھے یہ جواب دیا ؟ بس اسی وقت اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی۔