(۳۵۴۲۶) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ : أَیْ رَبِ ، ذَکَرْت إبْرَاہِیمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ ، بِمَ أَعْطَیْتہمْ ذَاکَ ، قَالَ : إنَّ إبْرَاہِیمَ لَمْ یَعْدِلْ بِی شَیْئًا إِلاَّ اخْتَارَنِی ، وَإِنَّ إِسْحَاقَ جَادَ بِنَفْسِہِ وَہُوَ بِمَا سِوَاہَا أَجْوَدُ ، وَإِنَّ یَعْقُوبَ لَمَ ابْتَلِہِ بِبَلاَئٍ إِلاَّ ازْدَادَ بِی حُسْنَ ظَنٍّ۔
(٣٥٤٢٦) حضرت عبداللہ بن عبید کے والد ماجد کہتے ہیں : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے (اللہ تبارک و تعالیٰ کی خدمت میں) عرض کیا : اے میرے رب ! آپ نے حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب ۔ کا ذکر (اپنے محبوب بندوں میں) فرمایا ہے، یہ (مقام و مرتبہ) آپ نے انھیں (ان کے) کس (عمل کی برکت کی) وجہ سے عطا فرمایا ؟ اللہ تبارک وتعالیٰ نے (جواب میں) ارشاد فرمایا : بیشک ابراہیم (علیہ السلام) نے جب بھی (کسی معبودِ باطل یا ناجائز کام کو میرے یا میرے حکم کے مقابلے میں آتے دیکھا اور مجبورا انھوں نے اس سے) میرا موازنہ کیا تو (اس معبودِ باطل اور غیر شرعی کام کو چھوڑ کر میرے حکم کو اور) مجھے ہی اختیار کیا۔ اور اسحاق (علیہ السلام) نے میری رضا کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ 1 پیش کردیا تھا، اور جان کے علاوہ دیگر اشیاء (کو میری رضا کی خاطر صدقہ و خیرات کی مد میں خرچ کرنے کے سلسلے) میں تو ان کی فیاضی (اس سے بھی) بہت زیادہ تھی۔ اور یعقوب (u کے مجھ پر بھروسہ کا یہ عالم تھا کہ ان) کو میں نے جب بھی آزمایا ، میرے ساتھ ان کا حسن ظن ہی بڑھا (بد گمانی پیدا نہیں ہوئی) ۔