(۳۵۴۲۹) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِیدِ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلاَمٍ ، قَالَ : قَالَ مُوسَی لِرَبِّہِ : یَا رَبِ ، مَا الشُّکْرُ الَّذِی یَنْبَغِی لَک ، قَالَ : لاَ یَزَالُ لِسَانُک رَطْبًا مِنْ ذِکْرِی ، قَالَ : یَا رَبِ ، إنِّی أَکُونُ عَلَی حَالٍ أُجِلُّک أَنْ أَذْکُرَک مِنَ الْجَنَابَۃِ وَالْغَائِطِ وَإِرَاقَۃِ الْمَائِ وَعَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ ، قَالَ : بَلَی ، قَالَ : کَیْفُ أَقُولُ ، قَالَ : قُلْ سُبْحَانَک وَبِحَمْدِکَ لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ فَاجْنُبْنِی الأَذَی سُبْحَانَک وَبِحَمْدِکَ لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ فَقِنِی الأَذَی۔
(٣٥٤٢٩) حضرت عبداللہ بن سلام (رض) فرماتے ہیں : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ جل شانہ سے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! وہ کون سا شکر (ادا کرنے کا طریقہ) ہے جو (قدرے) آپ کے شایانِ شان ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا : (وہ طریقہ یہ ہے کہ) آپ کی زبان ہمیشہ میرے ذکر سے تر رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے میرے رب میں کبھی ایسی حالت میں ہوتا ہوں جس میں آپ کا ذکر کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں سمجھتا، جیسے حالت جنابت، قضاء حاجت، غسل کا وقت اور بےوضو ہونے کی حالت میں (تو کیا ایسے حالتوں میں بھی میں آپ کا ذکر کیا کروں) ۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا : کیوں نہیں 1 (ایسی حالت میں بھی دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاسکتا ہے) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا : (ایسے مواقع میں دل ہی دل میں حمد وثنا کے کلمات میں سے) کیسے (کلمات) کہا کروں ؟ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا : (یوں) کہو : پاک ہیں آپ (اے اللہ تعالیٰ ) اور تعریف آپ (ہی) کے لیے ہے۔ آپ کے سوا کوئی معبودحقیقی نہیں ہے تو آپ ہی مجھے گندگی سے دور رکھئے۔ پاک ہیں آپ (اے اللہ تعالیٰ ) اور تعریف آپ (ہی) کے لیے ہے۔ آپ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ہے تو آپ ہی مجھے گندگی سے بچائیے۔