(۳۵۴۳۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : دَخَلَ جَبْرَائِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ، أَوَ قَالَ : الْمَلَکُ عَلَی یُوسُفَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ وَہُوَ فِی السِّجْنِ ، فَقَالَ : أَیُّہَا الْمَلَکُ الطَّیِّبُ الرِّیحِ ، الطَّاہِرُ الثِّیَابِ ، أَخْبِرْنِی عَنْ یَعْقُوبَ ، أَوْ مَا فَعَلَ یَعْقُوبُ ؟ قَالَ: ذَہَبَ بَصَرُہُ ، قَالَ: مَا بَلَغَ مِنْ حُزْنِہِ ؟ قَالَ: حُزْنُ سَبْعِینَ ثَکْلَی ، قَالَ : مَا أَجْرُہُ ؟ قَالَ : أَجْرُ مِئَۃِ شَہِیدٍ۔
(٣٥٤٣٠) حضرت خلف بن حوشب کہتے ہیں : جبرائیل -u یا وہ کہتے ہیں : کوئی فرشتہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس قید خانہ میں حاضر ہوئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : اے خوش مہک و پاکیزہ فرشتے ! مجھے یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں بتلائیے۔ یا انھوں نے فرمایا : یعقوب (علیہ السلام) کا کیا عمل تھا ؟ فرشتے نے جواب دیا : ان کی بینائی چلی گئی تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پھر دریافت فرمایا : انھیں کس قدر غم ہوا تھا ؟ فرشتے نے جواب دیا : ستر ایسی ماؤں کے غم کے بقدر جن کے بچے گم ہوگئے ہوں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پھر دریافت فرمایا : ان کے لیے (اس پر) کیا اجر ہے ؟ فرشتے نے جواب دیا : (ان کے لیے اس پر) سو شہیدوں کے برابر اجر ہے۔