(۳۵۴۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَخَذَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِی ، أَوْ بِبَعْضِ جَسَدِی ، فَقَالَ لِی : یَا عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ ، کُنْ غَرِیبًا ، أَوْ عَابِرَ سَبِیلٍ ، وَعُدَّ نَفْسَک فِی أَہْلِ الْقُبُورِ ، قَالَ مُجَاہِدٌ : وَقَالَ لِی عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ : إذَا أَصْبَحْت فَلاَ تُحَدِّثْ نَفْسَک بِالْمَسَائِ ، وَإِذَا أَمْسَیْت فَلاَ تُحَدِّثْ نَفْسَک بِالصَّبَاحِ ، وَخُذْ مِنْ حَیَاتِکَ قَبْلَ مَوْتِکَ ، وَمِنْ صِحَّتِکَ قَبْلَ سَقَمِکَ ، فَإِنَّک لاَ تَدْرِی مَا اسْمُک غَدًا۔ (احمد ۴۱۔ ابن المبارک ۱۳)
(٣٥٤٤٥) حضرت مجاھد سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ۔ یا مجھے۔ پکڑا اور مجھ سے فرمایا : اے عبداللہ بن عمر کسی پردیسی یا راہ رو کی مانند زندگی گزار، اور خود کو اہل قبور میں شمار کر۔
حضرت مجاہد فرماتے ہیں : (یہ روایت بیان کرنے کے بعد) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : جب صبح ہوجائے تو تم آئندہ شام کے بارے میں مت سوچو اور جب شام ہوجائے تو تم آئندہ صبح کے بارے میں مت سوچو۔ اور اپنی موت (کے آنے) سے پہلے اپنی زندگی سے فائدہ اٹھا لو، اور اپنی بیماری (کے آنے) سے پہلے اپنی صحت سے نفع اٹھا لو، کیونکہ یقیناً تم نہیں جانتے کہ کل تمہارا کیا نام ہوگا (زندہ یا مردہ) ۔