(۳۵۴۴۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی السَّفَرِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرُو ، قَالَ : مَرَّ عَلَیَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُصْلِحُ خُصًّا لَنَا ، فَقَالَ : مَا ہَذَا ؟ قُلْتُ : خُصٌّ لَنَا وَہی نُصْلِحُہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا أَرَی الأَمْرَ إِلاَّ أَعْجَلَ مِنْ ذَلِکَ۔ (ابوداؤد ۵۱۹۴۔ ترمذی ۲۳۳۵)
(٣٥٤٤٦) حضرت عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہمارے پاس سے گزر ہوا تو ہم اپنے جھونپڑے کو درست کر رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : ہمارا جھونپڑا ہے جسے ہم ٹھیک کر رہے ہیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امر (قیامت یا موت) تو اس (کے صحیح ہونے) سے بھی پہلے آجانے والا ہے (لہذا اس کی تیاری کے لیے اپنے اعمال کی اصلاح اور درستی کی بھی فکر کرنی چاہیے) ۔