(۳۵۴۴۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُسْتَوْرِدًا أَخَا بَنِی فِہْرٍ یَقُولُ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : وَاللہِ مَا الدُّنْیَا فِی الآخِرَۃِ إِلاَّ کَمَا یَضَعُ أَحَدُکُمْ إصْبَعَہُ فِی الْیَمِّ ، ثُمَّ یَرْفَعُہَا فَلْیَنْظُرْ بِمَ یَرْجِعُ۔ (مسلم ۲۱۹۳۔ ترمذی ۲۳۲۳)
(٣٥٤٤٧) حضرت مستورد جو کہ بنی فہر سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ کی قسم آخرت (کے مقابلے) میں (دنیا کی مثال) ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی کو دریا میں ڈبو کر نکال لے ، پھر دیکھے کہ (اس دریا کے پانی میں سے اس کی انگلی کے ساتھ لگ کر) کتنا نکلا ہے (بس جو حیثیت دریا کے پانی کے مقابلے میں انگلی پر لگے ہوئے پانی کی ہے وہی حیثیت آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ہے) ۔