(۳۵۴۵۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ النَّضْرِیُّ ، عَنْ نَہْشَلٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لَوْ أَنَّ أَہْلَ الْعِلْمِ صَانُوا عِلْمَہُمْ وَوَضَعُوہُ عِنْدَ أَہْلِہِ لَسَادُوا بِہِ أَہْلَ زَمَانِہِمْ ، وَلَکِنَّہُمْ بَذَلُوہُ لأَہْلِ الدُّنْیَا لِیَنَالُوا بِہِ مِنْ دُنْیَاہُمْ فَہَانُوا عَلَی أَہْلِہَا ، سَمِعْت نَبِیَّکُمْ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ جَعَلَ الْہُمُومَ ہَمًّا وَاحِدًا کَفَاہُ اللَّہُ ہَمَّ آخِرَتِہِ ، وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِہِ الْہُمُومُ وَأَحْوَالُ الدُّنْیَا لَمْ یُبَالِ اللَّہُ فِی أَیِّ أَوْدِیَتِہَا وَقَعَ۔ (مسند ۳۴۵)
(٣٥٤٥٤) حضرت اسود کہتے ہیں : عبداللہ نے فرمایا : اگر اہل علم اپنے علم کی حفاظت کریں، اور اس (علم) کو ان ہی لوگوں میں پھیلائیں جو اس کے اہل ہیں، تو وہ اس کے باعث اہل زمانہ پر حکومت کریں۔ لیکن انھوں نے وہ علم اہل دنیا میں لٹا ڈالا تاکہ اس کے ذریعہ ان سے ان کی دنیا (کا مال و دولت اور فوائد) حاصل کریں۔ تو وہ اہل دنیا میں رسوا ہو (کر رہ) گئے۔ میں نے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (یہ) فرماتے سنا ہے : جس نے اپنی تمام فکروں میں سے ایک (دین کی فکر) کو اختیار کرلیا، اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کے معاملہ میں اس کے لیے کافی ہوجائیں گے۔ اور جس شخص کو (دنیاوی) فکروں اور دنیا کے حالات نے (الجھا کر) متفرق (خواہشات اور آرزوؤں میں مبتلا) کر ڈالاتو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پروا نہ ہوگی کہ وہ (مصائب و گمراہی کی) کس وادی میں جا پڑے۔