(۳۵۴۵۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ الإِیمَانَ إذَا دَخَلَ الْقَلْبَ انْفَسَحَ لَہُ الْقَلْبُ وَانْشَرَحَ ، وَذَکَرَ ہَذِہِ الآیَۃَ {فَمَنْ یُرِدِ اللَّہُ أَنْ یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ} قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَہَلْ لِذَلِکَ مِنْ آیَۃٍ یُعْرَفُ بِہَا؟ قَالَ: نَعَمْ ، الإِنَابَۃُ إِلَی دَارِ الْخُلُود ، وَالتَّجَافِی عَنْ دَارِ الْغُرُورِ ، وَالاِسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ الْمَوْتِ۔ (ابن المبارک ۳۱۵)
(٣٥٤٥٥) حضرت ابوجعفر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب ایمان دل میں داخل ہوتا ہے تو دل کھل جاتا ہے اور اس میں انشراح پیدا ہوجاتا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی { فَمَنْ یُرِدِ اللَّہُ أَنْ یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ } لوگوں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اس کی کوئی علامت ہے جس کے ذریعے اسے پہچانا جائے ؟ آپ نے فرمایا اس کی علامت آخرت کی طرف رجوع، دھوکے کے گھر سے بیزاری اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری ہے۔ “