(۳۵۴۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ فَرُّوخَ ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، قَالَ : أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ، مَنْ أَزْہَدُ النَّاسِ فِی الدُّنْیَا، فَقَالَ: مَنْ لَمْ یَنْسَ الْمَقَابِرَ وَالْبِلَی، وَتَرَکَ أَفْضَلَ زِینَۃِ الدُّنْیَا ، وَآثَرَ مَا یَبْقَی عَلَی مَا یَفْنَی ، وَلَمْ یَعُدَّ غَدًا مِنْ أَیَّامِہِ ، وَعَدَّ نَفْسَہُ مِنَ الْمَوْتَی۔ (بیہقی ۱۰۵۱۵)
(٣٥٤٥٩) حضرت ضحاک بن مزاحم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ 5! دنیا کے معاملہ میں لوگوں میں سب سے بڑا زاہد کون ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص قبروں اور بوسیدہ ہونے کو نہ بھولے۔ اور دنیا کی زینت میں سے افضل کو چھوڑ دے، اور باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دے اور کل کے دن کو اپنے ایام (حیوۃ) میں سے شمار نہ کرے اور اپنے کو مردوں میں شمار کرے۔