(۳۵۴۹۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : وَرُبَّمَا قَالَ : قَالَ أَصْحَابُنَا ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : أَوْصَانِی خَلِیلِی بِسَبْعٍ : حُبِّ الْمَسَاکِینِ ، وَأَنْ أَدْنُوَ مِنْہُمْ ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَی مَنْ أَسْفَلَ مِنِّی ، وَلاَ أَنْظُرَ إِلَی مَنْ فَوْقِی ، وَأَنْ أَصِلَ رَحِمِی وَإِنْ جَفَانِی ، وَأَنْ أُکْثِرَ مِنْ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللہِ ، وَأَنْ أَتَکَلَّمَ بِمُرِّ الْحَقِّ وأن لاَ تَأْخُذُنِی فِی اللہِ لَوْمَۃُ لاَئِمٍ ، وَأَن لاَ أَسْأَلَ النَّاسَ شَیْئًا۔ (مسلم ۱۶۰۹۔ ابن ماجہ ۳۱۸۰)
(٣٥٤٩١) حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے دوست نے مجھے سات باتوں کی وصیت کی۔ مساکین سے محبت کرنے اور مجھے ان کے قریب ہونے کی وصیت کی۔ اور یہ بات کہ میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھوں اور اپنے سے اوپر والے کو نہ دیکھوں اور یہ کہ میں رشتہ داروں سے صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ میرے ساتھ جفا کریں اور یہ کہ میں لا حول ولا قوۃ الا باللہ کثرت سے پڑھوں اور یہ کہ میں کڑوا سچ بھی کہہ دوں اور یہ کہ اللہ کے معاملہ میں مجھے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ ہو اور یہ کہ میں لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔