hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 35521

.

ابن أبي شيبة

35521
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۵۲۲) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَلَیالْمِنْبَرِ : إنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ مَا یُخْرِجُ اللَّہُ مِنْ نَبَاتِ الأَرْضِ، أَوْ زَہْرَۃِ الدُّنْیَا فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ ، وَہَلْ یَأْتِی الْخَیْرُ بِالشَّرِ ، فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ یَنْزِلُ عَلَیْہِ وَغَشِیَہُ بُہْرٌ وَعَرَقٌ ، ثُمَّ قَالَ: أَیْنَ السَّائِلُ وَلَمْ یُرِدْ إِلاَّ خَیْرًا ، فَقَالَ : إنَّ الْخَیْرَ لاَ یَأْتِی إِلاَّ بِالْخَیْرِ ، وَلَکِنَّ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ ، کُلَّمَا یُنْبِتُ الرَّبِیعُ یَقْتُلُ حَبَطًا ، أَوْ یُلِمُّ إِلاَّ آکِلَۃُ الْخَضِرِ، تَأْکُلُ حَتَّی إذَا امْتَلاَتْ خَاصِرَتَاہَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ فَثَلَطَتْ، ثُمَّ بَالَتْ، ثُمَّ أَفَاضَتْ فَاجْتَرَّتْ، مَنْ أَخَذَ مَالاً بِحَقِّہِ بُورِکَ لَہُ فِیہِ، وَمَنْ أَخَذَ مَالاً بِغَیْرِ حَقِّہِ کَانَ کَالَّذِی یَأْکُلُ، وَلاَ یَشْبَعُ۔ (بخاری ۱۴۶۵۔ مسلم ۷۲۷)
(٣٥٥٢٢) حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ۔۔۔ جبکہ آپ منبر پر تھے ۔۔۔ ” مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ یہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ زمین کے نباتات میں یا زندگی کی رنگینی میں نکالیں گے۔ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : یا رسول اللہ 5! کیا خیر بھی شر لاتا ہے ؟ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پسینہ اور کپکپی ظاہر ہوگئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ اس نے خیر کا ہی ارادہ کیا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یقیناً خیر تو خیر ہی لاتی ہے لیکن یہ دنیا سرسبز اور میٹھی ہے۔ وہ پودے جو بہار میں اگتے ہیں وہ پیٹ کو خوب بھر لینے والے جانوروں کو یا تو مار ڈالتے ہیں یا مارنے کے قریب کردیتے ہیں، سوائے سبزہ کھانے والے ان جانوروں کے جو پیٹ کے معمولی بھر جانے کے بعد دھوپ میں چلے جاتے ہیں، جگالی کرتے ہیں، غذا کو نرم و ہضم کرتے ہیں، پاخانہ کرتے ہیں اور پھر کھانے کے لیے دوبارہ آجاتے ہیں۔
جو شخص مال کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے لیے اس مال میں برکت دی جاتی ہے اور جو شخص مال کو اس کے حق کے بغیر لیتا ہے تو اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔