(۳۵۵۲۳) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِیرٍ ، عَنْ عُبَیْدٍ سَنُوطَا ، عَنْ خَوْلَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ ، فَمَنْ أَخَذَہَا بِحَقِّہَا بُورِکَ لَہُ فِیہَا ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِی مَالِ اللہِ وَمَالِ رَسُولِہِ لَہُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (بخاری ۳۱۱۸۔ ترمذی ۲۳۷۴)
(٣٥٥٢٣) حضرت خولہ، جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” بیشک دنیا سرسبز اور میٹھی ہے۔ پس جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کے مال میں بہت سے غور و خوض کرنے والوں کے لیے بروز قیامت جہنم کی آگ ہے۔