(۳۵۵۲۴) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ وَسَعِیدٍ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِی ، ثُمَّ سَأَلْتُہُ فَأَعْطَانِی ، ثُمَّ سَأَلْتُہُ فَأَعْطَانِی ، ثُمَّ قَالَ : إنَّ ہَذَا الْمَالَ خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ ، فَمَنْ أَخَذَہُ بِطِیبِ نَفْسٍ بُورِکَ لَہُ فِیہِ ، وَمَنْ أَخَذَہُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ یُبَارَکْ لَہُ فِیہِ ، وَکَانَ کَالَّذِی یَأْکُلُ ، وَلاَ یَشْبَعُ ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلَی۔ (بخاری ۶۴۴۱۔ مسلم ۷۱۷)
(٣٥٥٢٤) حضرت حکیم بن حزام سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا۔ آپ نے مجھے عطا کیا۔ میں نے پھر آپ سے سوال کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پھر عطا کیا۔ میں نے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پھر عطا کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ پس جو شخص اس کو طیب نفس کے ساتھ لیتا ہے اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے۔ اور جو شخص اس مال کو اشرافِ نفس کی وجہ سے لیتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جاتی۔ اور اس شخص کی مثال اس آدمی کی طرح ہوتی ہے جو کھانا کھاتا ہے لیکن شکم سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر والا ہاتھ، نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔