(۳۵۵۲۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : قامَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَکَلَتْنَا الضَّبُعُ ، قَالَ : فَدَفَعَہُ النَّاسُ حَتَّی وَقَعَ ، ثُمَّ قَامَ أَیْضًا فَنَادَی بِصَوْتِہِ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَخْوَفُ عَلَیْکُمْ عِنْدِی مِنْ ذَلِکَ أَنْ تُصَبَّ عَلَیْکُمَ الدُّنْیَا صَبًّا ، فَلَیْتَ أُمَّتِی لاَ تَلْبَسُ الذَّہَبَ ، فَقُلْتُ لِزَیْدٍ : مَا الضَّبُعُ ، قَالَ : السَّنَۃُ۔
(احمد ۱۵۲۔ بزار ۳۹۸۴)
(٣٥٥٢٦) حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ 5! قحط سالی نے ہمیں کھالیا ہے۔ راوی کہتے ہیں پس لوگوں نے اس کو بٹھایا اور وہ بیٹھ گیا۔ وہ پھر دوبارہ کھڑا ہوا اور اس نے اپنی آواز سے ندا لگائی پھر اس کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے التفات فرمایا اور ارشاد فرمایا : مجھے تم پر اس سے بھی زیادہ اس بات کا خوف ہے کہ تم پر دنیا خوب بہا دی جائے، کاش کہ میری امت سونا نہ پہنے۔