(۳۵۵۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، وَابْنُ نُمَیْرٍ وَوَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَیْد ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : انْتَہَیْت إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ ، فَلَمَّا رَآنِی ، قَالَ : ہُمَ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ ، فَجِئْت فَجَلَسْت فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْت ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فِدَاک أَبِی وَأُمِّی ، مَنْ ہُمْ ، قَالَ : ہُمَ الأَکْثَرُونَ أَمْوَالاً إِلاَّ مَنْ قَالَ بِالْمَالِ ہَکَذَا وَہَکَذَا مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہِ ، وَعَنْ یَمِینِہِ ، وَعَنْ شِمَالِہِ۔ (مسلم ۲۸۶۔ بزار ۳۹۹۳)
(٣٥٥٢٧) حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھا تو ارشاد فرمایا : ” رب کعبہ کی قسم ! یہ لوگ بہت گھاٹے والے ہیں۔ پس میں آیا اور میں بیٹھ گیا۔ پس ابھی میں جمنے بھی نہ پایا تھا کہ میں کھڑا ہوگیا۔ اور میں نے عرض کیا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ یا رسول اللہ 5! یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ لوگ مال کے اعتبار سے کثرت والے ہیں۔ ہاں مگر جو اپنے مال کو اس طرح اس طرح دے۔ اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں اور اپنے بائیں۔