(۳۵۵۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَامَ فِینَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَۃٍ ، فَقَالَ : إنَّکُمْ مَحْشُورُونَ إِلَی اللہِ حُفَاۃً عراۃ غُرْلاً {کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا إنَّا کُنَّا فَاعِلِینَ} فَأَوَّلُ الْخَلاَئِقِ یُلْقَی بِثَوْبٍ إبْرَاہِیمُ خَلِیلُ الرَّحْمَن ، قَالَ : ثُمَّ یُؤْخَذُ بقَوْمٍ مِنْکُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ : یَا رَبِّ أَصْحَابِی ، فَیُقَالَ : إنَّک لاَ تَدْرِی مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ، إنَّہُمْ لَمْ یَزَالُوا مُرْتَدِّینَ عَلَی أَعْقَابِہِمْ ، فَأَقُولُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ : {وَکُنْت عَلَیْہِمْ شَہِیدًا} إِلَی قَوْلِہِ : {الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ}۔ (مسلم ۲۱۹۴۔ ترمذی ۳۱۶۷)
(٣٥٥٣٨) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان وعظ کہنے کھڑے ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” یقیناً تم لوگ اللہ کی طرف ننگے سر، ننگے پاؤں اور غیر مختون حالت میں جمع کیے جاؤ گے۔ { کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا إنَّا کُنَّا فَاعِلِینَ } مخلوق میں سے سب سے پہلے جس کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ وہ ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تم میں سے بائیں ہاتھ والے لوگوں کو پکڑا جائے گا تو میں کہوں گا۔ اے پروردگار ! یہ میرے ساتھی ہیں۔ کہا جائے گا آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا ایجاد کیا۔ یہ لوگ مسلسل اپنی ایڑیوں پر واپس پلٹتے رہے۔ اس پر میں وہی بات کہوں گا جو عبد صالح ۔۔۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ۔۔۔ نے کہی تھی۔