(۳۵۵۴۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ أَبِی وَکِیعٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ} قَالَ : یَوْمَ الْحَجِّ الأَکْبَرِ ، قَالَ : فَبَکَی عُمَرُ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا یُبْکِیک ، قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَبْکَانِی أَنَّا کُنَّا فِی زِیَادَۃٍ مِنْ دِینِنَا ، فَأَمَّا إذ کَمُلَ فَإِنَّہُ لَمْ یَکْمُلْ قَطُّ شَیْئٌ إِلاَّ نَقَصَ ، قَالَ : صَدَقْتَ۔ (طبری ۸۰)
(٣٥٥٤٩) حضرت ہارون بن ابی وکیع، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت { الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ } نازل ہوئی راوی کہتے ہیں یہ حج اکبر کا دن تھا۔ کہتے ہیں حضرت عمر (رض) رو پڑے۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے پوچھا : ” تمہیں کس بات پر رونا آرہا ہے ؟ “ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ 5! مجھے اس بات نے رلا دیا ہے کہ ہم پہلے اپنے دین میں زیادتی میں (امیدوار) ہوتے تھے۔ پس جب یہ دین کامل ہوگیا تو بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی چیز کامل ہوتی ہے تو پھر اس میں نقص آنے لگتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم سچ کہہ رہے ہو۔