hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 35563

.

ابن أبي شيبة

35563
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۵۶۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی ، قَالَ : حدَّثَنِی إبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : جَائَ ثَلاَثَۃُ رَہْطٍ مِنْ بَنِی عُذْرَۃٍ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ یَکْفِینِی ہَؤُلاَئِ ، قَالَ : فَقَالَ : طَلْحَۃُ : أَنَا ، قَالَ : فَکَانُوا عِنْدِی ، قَالَ : فَضُرِبَ عَلَی النَّاسِ بَعْثٌ ، قَالَ : فَخَرَجَ أَحَدُہُمْ فَاسْتُشْہِدَ ، ثُمَّ ضُرِبَ بَعْثٌ فَخَرَجَ الثَّانِی فِیہِ فَاسْتُشْہِدَ ، قَالَ : وَبَقِیَ الثَّالِثُ حَتَّی مَاتَ مَرِیضًا عَلَی فِرَاشِہِ ، قَالَ طَلْحَۃُ : فَرَأَیْتُ فِی النَّوْمِ کَأَنِّی أُدْخِلْت الْجَنَّۃَ فَرَأَیْتہمْ أَعْرِفُہُمْ بِأَسْمَائِہِمْ وَسِیمَاہُمْ ، قَالَ : فَإِذَا الَّذِی مَاتَ عَلَی فِرَاشِہِ دَخَلَ أَوَّلَہُمْ ، وَإِذَا الثَّانِی مِنَ الْمُسْتَشْہِدِینَ عَلَی أَثَرِہِ ، وَإِذَا أَوَّلُہُمْ آخِرُہُمْ ، قَالَ فَدَخَلَنِی مِنْ ذَلِکَ ، قَالَ : فَأَتَیْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْت ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَیْسَ أَحَدٌ عِنْدَ اللہِ أَفْضَلَ مِنْ مُعَمِّرٍ یُعَمَّرُ فِی الإِسْلاَمِ لِتَہْلِیلِہِ وَتَکْبِیرِہِ وَتَسْبِیحِہِ وَتَحْمِیدِہِ۔ (نسائی ۱۰۶۷۴۔ احمد ۱۶۳)
(٣٥٥٦٤) حضرت عبداللہ بن شداد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو عذرہ کے تین لوگ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام لے آئے۔ راوی کہتے ہیں آپ نے پوچھا : ” ان لوگوں کو میری طرف سے کون کفایت کرے گا ؟ “ راوی کہتے ہیں حضرت طلحہ نے کہا میں۔ طلحہ کہتے ہیں پس وہ میرے پاس ہی تھے۔ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ایک سفر میں جانا پڑا۔ راوی کہتے ہیں پس ان میں سے ایک باہر سفر میں گیا اور شہید ہوگیا۔ پھر ایک اور سفر درپیش ہوا تو دوسرا آدمی اس میں شامل ہوا اور وہ بھی شہید ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں تیسرا آدمی رہ گیا یہاں تک کہ وہ اپنے بستر پر ہی بیمار ہو کر مرگیا۔ حضرت طلحہ (رض) کہتے ہیں پس میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوگیا ہوں۔ میں ان لوگوں کو ان کے ناموں اور نشانوں سے پہچانتا تھا۔ کہتے ہیں کہ پس جو آدمی ان میں سے اپنے بستر پر مرا تھا وہ ان دونوں سے پہلے جنت میں داخل ہوا۔ اور دوسرا شہید ہونے والا اس کے بعد آیا۔ اور ان میں سے پہلا شہید ہونے والا، سب سے آخر میں آیا۔ راوی کہتے ہیں یہ دیکھ کر میرے دل میں کچھ خیال سا آیا۔ کہتے ہیں میں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے ہاں اس معمر آدمی سے زیادہ کسی کو فضیلت نہیں ہے جو اسلام میں عمر گزار کر گیا ہو۔ کیونکہ اس نے لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ پڑھا ہے۔