(۳۵۵۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، قَالَ : رَأَی أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ طَیْرًا وَاقِعًا عَلَی شَجَرَۃٍ ، فَقَالَ : طُوبَی لَک یَا طَیْرُ وَاللہِ لَوَدِدْت أَنِّی کُنْت مِثْلَک ، تَقَعُ عَلَی الشَّجَرَۃِ وَتَأْکُلُ مِنَ الثَمَرِ ، ثُمَّ تَطِیرُ وَلَیْسَ عَلَیْک حِسَابٌ ، وَلاَ عَذَابٌ ، وَاللہِ لَوَدِدْت أَنِّی کُنْت شَجَرَۃً إِلَی جَانِبِ الطَّرِیقِ مَرَّ عَلَیَّ جَمَلٌ فَأَخَذَنِی فَأَدْخَلَنِی فَاہُ فَلاَکَنِی ، ثُمَّ ازْدَرَدَنِی ، ثُمَّ أَخْرَجَنِی بَعْرًا وَلَمْ أَکُنْ بَشَرًا۔ (ابن المبارک ۲۴۰)
(٣٥٥٧٣) حضرت ضحاک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ایک پرندے کو درخت پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا : اے پرندے ! تجھے مبارک ہو۔ خدا کی قسم ! میں پسند کرتا ہوں کہ میں تیرے جیسا ہوتا۔ تو درختوں پر بیٹھتا ہے، پھلوں کو کھاتا ہے، پھر اُڑ جاتا ہے۔ تجھے نہ حساب ہے نہ عذاب۔ خدا کی قسم ! میں پسند کرتا ہوں کہ میں راستہ کے ایک جانب لگا ہوا درخت ہوتا۔ میرے پاس سے کوئی اونٹ گزرتا۔ مجھے پکڑتا اور اپنے منہ میں ڈال لیتا پھر وہ مجھے چباتا مجھے توڑتا پھر مجھے مینگنی بنا کر نکال دیتا لیکن میں انسان نہ ہوتا۔