hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 35573

.

ابن أبي شيبة

35573
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۵۷۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ زُبَیْدٍ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا بَکْرٍ الْوَفَاۃُ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ ، فَقَالَ : إنِّی مُوصِیک بِوَصِیَّۃٍ إنْ حَفِظْتہَا : إنَّ لِلَّہِ حَقًّا فِی اللَّیْلِ لاَ یَقْبَلُہُ فِی النَّہَارِ ، وَإِنَّ لِلَّہِ حَقًّا فِی النَّہَارِ لاَ یَقْبَلُہُ فِی اللَّیْلِ ، وَأَنَّہُ لاَ یُقْبَلُ نَافِلَۃٌ حَتَّی تُؤَدَّی الْفَرِیضَۃُ ، وَإِنَّمَا خَفَّتْ مَوَازِینُ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِاتِّبَاعِہِمَ الْبَاطِلَ فِی الدُّنْیَا وَخِفَّتِہِ عَلَیْہِمْ ، وَحُقَّ لِمِیزَانٍ لاَ یُوضَعُ فِیہِ إِلاَّ الْبَاطِلُ أَنْ یَکُونَ خَفِیفًا ، وَإِنَّمَا ثَقُلَتْ مَوَازِینُ مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِاتِّبَاعِہِمَ الْحَقَّ فِی الدُّنْیَا وَثِقَلِہِ عَلَیْہِمْ ، وَحُقَّ لِمِیزَانٍ لاَ یُوضَعُ فِیہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ الْحَقُّ أَنْ یَکُونَ ثَقِیلا ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ ذَکَرَ أَہْلَ الْجَنَّۃِ بِصَالِحِ مَا عَمِلُوا ، وَتَجَاوَزَ عَنْ سَیِّئَاتِہِمْ ، فَیَقُولُ الْقَائِلُ : لاَ أبلغ ہولاء ، وَذَکَرَ أَہْلَ النَّارِ بِسَیِّئِ مَا عَمِلُوا وَرَدَّ عَلَیْہِمْ صَالِحَ مَا عَمِلُوا : فَیَقُولُ الْقَائِلُ : أَنَا خَیْرٌ مِنْ ہَؤُلاَئِ ، وَذَکَرَ آیَۃَ الرَّحْمَۃِ وَآیَۃَ الْعَذَابِ ، لِیَکُون الْمُؤْمِنُ رَاغِبًا رَاہِبًا ، وَلاَ یَتَمَنَّی عَلَی اللہِ غَیْرَ الْحَقِ ، وَلاَ یُلْقِی بِیَدَیْہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ ، فَإِنْ أَنْتَ حَفِظْت قَوْلِی ہَذَا فَلاَ یَکُنْ غَائِبٌ أَحَبَّ إلَیْک مِنَ الْمَوْتِ ، وَلاَ بُدَّ لَک مِنْہُ ، وَإِنْ أَنْتَ ضَیَّعْت قَوْلِی ہَذَا فَلاَ یَکُنْ غَائِبٌ أَبْغَضَ إلَیْک مِنْہُ وَلَنْ تُعْجِزَہُ۔
(٣٥٥٧٤) حضرت زبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کی موت کا وقت آیا تو انھوں نے حضرت عمر (رض) کی طرف آدمی بھیجا اور فرمایا : میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں اگر تم اسے یاد رکھو تو بیشک اللہ تعالیٰ کا ایک حق رات کے وقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ دن میں قبول نہیں کرتے اور بیشک ایک حق اللہ تعالیٰ کا دن کے وقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ رات کے وقت قبول نہیں کرتے۔ اور یہ کہ جب تک فرض ادا نہ ہوں، نفل قبول نہیں ہوتے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن ہلکے ہوں گے ان کے اعمال صرف اس وجہ سے ہلکے ہوں گے کہ انھوں نے دنیا میں باطل کی پیروی کی اور باطل ان کو ہلکا محسوس ہوا۔ اور میزان کے لیے یہ بات حق ہے کہ اس میں باطل ہی رکھا جائے تو وہ ہلکا ہوجائے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن وزنی ہوں گے تو ان کے اعمال صرف اس وجہ سے وزنی ہوں گے کہ انھوں نے دنیا میں حق کی پیروی کی اور حق ان پر بھاری محسوس ہوا۔ اور ایسے میزان کے لیے جس میں بروز قیامت حق رکھا جائے یہی بات لائق ہے کہ وہ بھاری ہوجائے۔
تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے اچھے اعمال کا ذکر کیا ہے اور ان کی غلطیوں سے درگزر کیا ہے۔ پس کہنے والا کہتا ہے میں ان لوگوں کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے برے اعمال کا ذکر کیا ہے اور ان کے اچھے اعمال کو ان پر رد فرما دیا ہے۔ پس کہنے والا کہتا ہے۔ میں ان لوگوں سے بہتر ہوں اور اللہ تعالیٰ نے رحمت کی آیت کو اور عذاب کی آیت کو ذکر فرمایا تاکہ صاحب ایمان خوف کھانے والا اور شوق رکھنے والا ہو اور خدا پر حق کے سوا کوئی تمنا نہ کرے اور اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں نہ پڑے۔ پس اگر تم نے میری یہ بات یاد رکھی تو پھر کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ محبوب نہیں ہوگی اور یہ موت تو ضروری ہے۔ اور اگر تم نے میری یہ بات ضائع کی تو پھر کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ مبغوض نہیں ہوگی اور تو موت کو عاجز نہیں کرسکتا۔