hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 35582

.

ابن أبي شيبة

35582
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۵۸۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمْنَا مَعَ عُمَرَ الشَّامَ أَنَاخَ بَعِیرَہُ ، وَذَہَبَ لِحَاجَتِہِ فَأَلْقَیْت فَرْوَتِی بَیْنَ شُعْبَتَیَ الرَّحْلِ ، فَلَمَّا جَائَ رَکِبَ عَلَی الْفَرْوِ ، فَلَقِینَا أَہْلَ الشَّامِ یَتَلَقَّوْنَ عُمَرَ فَجَعَلُوا یَنْظُرُونَ فَجَعَلْتُ أُشِیرُ لَہُمْ إلَیْہِ ، قَالَ : یَقُولُ عُمَرُ : تَطْمَحُ أَعْیُنُہُمْ إِلَی مَرَاکِبِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَہُ یُرِیدُ مَرَاکِبَ الْعَجَمِ۔
(٣٥٥٨٣) حضرت عمر (رض) کے غلام اسلم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ حضرت عمر (رض) کے ساتھ شام گئے۔ انھوں نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اپنی حاجت کے لیے چلے گئے۔ میں نے سواری کے دونوں حصوں کے درمیان چمڑے کا ملبوس ڈال دیا۔ پھر جب حضرت عمر (رض) آئے تو آپ (رض) اسی چمڑے پر ہی سوار ہوگئے۔ پس ہم اہل شام سے ملے۔ انھوں نے حضرت عمر (رض) کا استقبال کیا۔ وہ دیکھنے لگے تو میں ان کو حضرت عمر کی طرف اشارہ کرکے بتلانے لگا۔ راوی کہتے ہیں حضرت نے فرمایا : ان کی آنکھیں ایسے لوگوں کے مراکب کی طرف للچاتی ہیں جن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حضرت عمر (رض) کی مراد عجمی سواریاں تھیں۔