(۳۵۵۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عُمَرُ الشَّامَ اسْتَقْبَلَہُ النَّاسُ وَہُوَ عَلَی بَعِیرِہِ فَقَالُوا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، لَوْ رَکِبْت بِرْذَوْنًا یَلْقَاک عُظَمَائُ النَّاسِ وَوُجُوہُہُمْ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ أَلاَّ أَرَاکُمْ ہَاہُنَا ، إنَّمَا الأَمْرُ مِنْ ہَاہُنَا ، وَأَشَارَ بِیَدِہِ إِلَی السَّمَائِ خَلُّوا سَبِیلَ جَمَلِی۔
(٣٥٥٨٤) حضرت قیس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) شام تشریف لائے لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ حضرت عمر (رض) اپنے اونٹ پر تھے۔ لوگوں نے کہا : اے امیر المومنین ! اگر آپ غیر عربی گھوڑے پر سوار ہوجاتے کہ لوگوں کے سردار اور رئیس آپ سے ملاقات کریں گے راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں تمہیں یہاں دکھائی نہیں دوں گا۔ معاملہ تو وہاں ہوتا ہے اور آپ (رض) نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ تم لوگ میرے اونٹ کا راستہ چھوڑ دو ۔