(۳۵۶۰۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ غِفَارٍ ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ : أَقْبَلْت بِطَعَامٍ أَحْمِلُہُ مِنَ الْجَارِ عَلَی إبِلٍ مِنْ إبِلِ الصَّدَقَۃِ فَتَصَفَّحَہَا عُمَرُ فَأَعْجَبَہُ بِکْرٌ فِیہَا ، قُلْتُ : خُذْہُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، فَضَرَبَ بِیَدِہِ عَلَی کَتِفِی ، وَقَالَ : وَاللہِ مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِہِ مِنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی غِفَارٍ۔
(٣٥٦٠٤) ” قبیلہ غفار کا ایک آدمی، اپنے والد سے روایت کرتا ہے اس کے والد کہتے ہیں کہ میں مقام جار سے صدقہ کے اونٹوں پر کھانا لاد کر لا رہا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے ان اونٹوں کو غور سے دیکھا تو ان اونٹوں میں ایک جوان اونٹ حضرت عمر (رض) کو پسند آیا۔ میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! اس کو لے لیں۔ تو حضرت عمر (رض) نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارا اور فرمایا : میں بنو غفار کے آدمی سے زیادہ اس کا حقدار نہیں ہوں۔