(۳۵۶۰۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ ، قَالَ : کَانَ بَیْنَ یَدَیْ عُمَرَ صَحْفَۃٌ فِیہَا خُبْزٌ مَفْتُوتٌ فِیہِ ، فَجَائَ رَجُلٌ کَالْبَدَوِیِّ ، قَالَ : فَقَالَ : کُلْ ، قَالَ : فَجَعَلَ یَتْبَعُ بِاللُّقْمَۃِ الدَّسَمَ فِی جُنوب الصَّحْفَۃِ ، فَقَالَ عُمَرُ : کَأَنَّک مُقْفِرٌ ، فَقَالَ : وَاللہِ مَا ذُقْت سَمْنًا ، وَلاَ رَأَیْت لَہُ آکِلاً ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللہِ لاَ أَذُوقُ سَمْنًا حَتَّی یَحْیَا النَّاسُ مِنْ أَوَّلِ مَا یَحْیَوْنَ۔
(٣٥٦٠٥) حضرت محمد بن یحییٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے سامنے ایک پلیٹ تھی جس میں روٹی، گھی میں چورا کی ہوئی تھی کہ ایک دیہاتی قسم کا آدمی آگیا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کھاؤ، راوی کہتے ہیں : پس اس نے پلیٹ کے کنارے میں موجود چکناہٹ کے ساتھ لقمہ لگانا شروع کیا اس پر حضرت عمر (رض) نے پوچھا لگتا ہے تم بھوکے ہو ؟ اس نے کہا : خدا کی قسم ! میں نے گھی کو چکھا ہے اور نہ ہی میں نے اس کو کھانے والا دیکھا ہے۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : خدا کی قسم ! اس وقت تک میں گھی نہیں چکھوں گا جب تک یَحْیَا النَّاسُ مِنْ أَوَّلِ مَا یَحْیَوْنَ