(۳۵۶۱۲) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ أَبِی فَرْوَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : قدِمَ عَلَی عُمَرَ نَاسٌ مِنْ الْعِرَاقِ فَرَأَی کَأَنَّہُمْ یَأْکُلُونَ تَعْذِیرًا ، فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا أَہْلَ الْعِرَاقِ ؟ لَوْ شِئْت أَنْ یُدَہْمَقَ لِی کَمَا یُدَہْمَقُ لَکُمْ لَفَعَلْت ، وَلَکِنَّا نَسْتَبْقِی مِنْ دُنْیَانَا مَا نَجِدُہُ فِی آخِرَتِنَا ، أَمَا سَمِعْتُمُ اللَّہَ قَالَ : {أَذْہَبْتُمْ طَیِّبَاتِکُمْ فِی حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہَا}۔
(٣٥٦١٢) حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس، عراق کے کچھ لوگ آئے۔ حضرت عمر (رض) نے انھیں دیکھا کہ گویا وہ کھانا تھوڑا کھا رہے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے اہل عراق ! یہ کیا ہے ؟ اگر میں چاہتا کہ جس طرح تمہارے لیے کھانا عمدہ بنایا گیا، میرے لیے بھی بنایا جائے تو میں بنوا سکتا ہوں۔ لیکن ہم اپنی دنیا میں سے بچاتے ہیں جس کو ہم آخرت میں پائیں گے۔ کیا تم نے حق تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا : { أَذْہَبْتُمْ طَیِّبَاتِکُمْ فِی حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہَا }۔