(۳۵۶۷۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لاَ تَعْجَلُوا بِحَمْدِ النَّاسِ وَلا بِذَمِّہِمْ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ یُعْجِبُک الْیَوْمَ وَیَسُوئُک غَدًا ، وَیَسُوئُک الْیَوْمَ وَیُعْجِبُک غَدًا ، وَإِنَّ الْعِبَادَ یُغِیرُونَ وَاللَّہُ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَاللَّہُ أَرْحَمُ بِعَبْدِہِ یَوْمَ یَأْتِیہِ مِنْ أُمِّ وَاحِدٍ فَرَشَتْ لَہُ فِی أَرْضِ قیٍّ ، ثُمَّ قَامَتْ تَلْتَمِسُ فِرَاشَہُ بِیَدِہَا ، فَإِنْ کَانَتْ لَدْغَۃٌ کَانَتْ بِہَا وَإِنْ کَانَتْ شَوْکَۃٌ کَانَتْ بِہَا۔
(٣٥٦٧٢) حضرت قاسم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہ فرماتے ہیں لوگوں کی حمد اور لوگوں کی مذمت کی وجہ سے جلد بازی نہ کرو۔ کیونکہ آج کے دن ایک آدمی تمہیں پسند کرے گا اور کل کے دن یہی آدمی تمہیں برا سمجھے گا۔ اور آج (اگر) برا سمجھے گا تو کل تمہیں اچھا سمجھے گا۔ کیونکہ لوگ بدلتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز گناہوں کو معاف فرمائیں گے۔ جس دن بندہ اللہ کے پاس آئے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندہ پر اس ماں سے زیادہ رحم کرنے والے ہوں گے جو ماں بچے کے لیے خالی زمین میں فرش بچھائے پھر اس کے بچھونے کو اپنے ہاتھ سے ٹٹول کر تلاش کرنے لگے چنانچہ اگر کوئی ڈسنا ہوا تو اس کے ہاتھ پر ہوگا اور اگر کوئی کانٹا ہوا تو اس کے ہاتھ پر ہوگا۔