(۳۵۷۶۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَدِمْت عَلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَأَنْزَلَنِی فِی نَاحِیَۃِ بَیْتِہِ ، وَامْرَأَتُہُ فِی نَاحِیَۃٍ وَبَیْنَنَا سِتْرٌ ، فَکَانَ یَحْلِبُ النَّاقَۃَ فَیَجِیئُ بِالإِنَائِ فیضعہ فِی یَدَیَّ ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الطُّلَقَائِ : أَتُنْزِلُ ہَذَا نَاحِیَۃَ بَیْتِکَ مَعَ امْرَأَتِکَ ، فَقَالَ : أُرَاقِبُ بِہِ عیر مَنْ لَوْ لَقِیتہ سَلِیبًا لاَسْتَأْنَی عَلَی کُلِّ مَرْکَبٍ۔
(٣٥٧٦٥) حضرت انس (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح (رض) کے پاس حاضر ہوا تو انھوں نے مجھے اپنے گھر کے کنارے میں ٹھہرایا۔ جبکہ ان کی بیوی ایک دوسرے کنارے میں تھیں۔ اور ہمارے درمیان ایک پردہ تھا۔ پس آپ اونٹنی کا دودھ نکالتے اور برتن میں لے کر آتے پھر اس کو میرے ہاتھ میں رکھ دیتے۔ اس پر طلقاء میں سے ایک آدمی نے ان سے کہا۔ کیا آپ اس آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ اپنے گھر ٹھہراتے ہیں ؟ تو انھوں نے فرمایا : میں اس آدمی کو مکمل طور پر پاکدامن سمجھتا ہوں۔