(۳۵۷۶۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَرِیزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ مِخْمَرٍ الرَّحَبِیِّ ، قَالَ : کَانَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ یَسِیرُ فِی الْجَیْشِ وَہُوَ یَقُولُ : أَلاَ رُبَّ مُبَیِّضٍ لِثِیَابِہِ مُدَنِّسٌ لِدِینِہِ ، أَلاَ رُبَّ مُکْرِمٍ لِنَفْسِہِ وَہُوَ لَہَا مُہِینٌ ، إِلاَّ بَادِرُوا السَّیِّئَاتِ الْقَدِیمَاتِ بِالْحَسَنَاتِ الْحَدِیثَاتِ ، فَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَوْ أَسَائَ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَۃً لَغَلَبَتْ سَیِّئَاتِہِ حَتَّی تُقْہِرَہُنَّ۔
(٣٥٧٦٤) حضرت نمران بن مخمر رحبی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح لشکر میں چلے جا رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ خبردار ! بہت سے اپنے کپڑوں کو سفید رکھنے والے اپنے دین کو میلا کرنے والے ہوتے ہیں۔ خبردار ! بہت سے لوگ جو اپنے نفس کا اکرام کرنے والے ہوتے ہیں وہ اس کو ذلیل کرنے والے ہوتے ہیں۔ خبردار ! پرانی برائیوں کے لیے نئی نیکیاں کرو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی ایک زمین و آسمان کے درمیان کو برائی سے بھر دے پھر وہ ایک اچھا عمل کرلے تو یہ نیکی اس کی برائیوں پر غالب آجاتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کو نیچا کردیتی ہے۔