hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 35812

.

ابن أبي شيبة

35812
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۸۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شِمْرٍ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : جَائَ سَلْمَانُ إِلَی أَبِی الدَّرْدَائِ فَلَمْ یَجِدْہُ ، فَسَلَّمَ عَلَی أُمِّ الدَّرْدَائِ ، وَقَالَ : أَیْنَ أَخِی ، قَالَتْ فِی الْمَسْجِد ، وَعَلَیْہِ عَبَائَۃٌ لَہَا قُطْوَانِیَّۃٌ ، فَأَلْقَتْ إلَیْہِ خَلَقَ وِسَادَۃٍ ، فَأَبَی أَنْ یَجْلِسَ عَلَیْہَا وَلَوَّی عِمَامَتَہُ فَطَرَحَہَا فَجَلَسَ عَلَیْہَا ، قَالَ : فَجَائَ أَبُو الدَّرْدَائِ مُعَلِّقًا لَحْمًا بِدِرْہَمَیْنِ ، فَقَامَتْ أُمُّ الدَّرْدَائِ فَطَبَخَتْہُ وَخَبَزَتْ ، ثُمَّ جَائَتْ بِالطَّعَامِ ، وَأَبُو الدَّرْدَائِ صَائِمٌ ، فَقَالَ : سَلْمَانُ : مَنْ یَأْکُلْ مَعِی ، فَقَالَ : تَأْکُلُ مَعَک أُمُّ الدَّرْدَائِ ، فَلَمْ یَدَعْہُ حَتَّی أَفْطَرَ ، فَقَالَ : سَلْمَانُ لأُمِّ الدَّرْدَائِ وَرَآہَا سَیِّئَۃَ الْہَیْئَۃِ : مَا لَک ، قَالَتْ : إنَّ أَخَاک لاَ یُرِیدُ النِّسَائَ ، یَصُومُ النَّہَارَ وَیَقُومُ اللَّیْلَ ، فَبَاتَ عِنْدَہُ ، فَجَعَلَ أَبُو الدَّرْدَائِ یُرِیدُ أَنْ یَقُومَ فَیَحْبِسُہُ حَتَّی کَانَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّی رَکَعَاتٍ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ أَبُو الدَّرْدَائِ : حَبَسْتنِی عَنْ صَلاَتِی ، فَقَالَ لَہُ سَلْمَانُ : صَلِّ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ فَإِنَّ لأَہْلِکَ عَلَیْک حَقًّا وَلِعَیْنَیْک عَلَیْک حَقًّا۔
(٣٥٨١٣) حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان، حضرت ابوالدرداء کے ہاں تشریف لے گئے لیکن انھیں موجود نہ پایا۔ تو آپ (رض) نے ام درداء (رض) کو سلام کیا اور کہا : میرا بھائی کہاں ہے ؟ انھوں نے جواب دیا مسجد میں اور ان پر اہلیہ کا قطوانی چوغہ تھا۔ ام درداء (رض) نے ان کی طرف پرانا تکیہ پھینکا۔ انھوں نے اس پر بیٹھنے سے انکار کردیا اور اپنے عمامہ کو اتارا اور اس کو نیچے ڈال کر اس پر بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوالدرداء (رض) تشریف لائے۔ دو درہموں کا گوشت اٹھائے ہوئے۔ چنانچہ حضرت ام درداء کھڑی ہوئیں انھوں نے اس کو پکایا اور روٹی پکائی۔ پھر کھانا لے کر آئی۔ حضرت ابودرداء (رض) روزے سے تھے۔ حضرت سلمان نے کہا میرے ساتھ کون کھائے گا ؟ انھوں نے کہا تمہارے ساتھ ام درداء کھائیں گی۔ حضرت سلمان نے ان کو روزہ افطار کروائے بغیر نہ چھوڑا۔ پھر حضرت سلمان (رض) نے ام درداء سے کہا۔ آپ نے ان کی خستہ حالت دیکھی تھی۔ تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ آپ کا بھائی عورتوں کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے۔ چنانچہ آپ نے ان کے ہاں رات گزاری۔ اور حضرت ابوالدرداء (رض) اٹھنے کا ارادہ کرتے تو حضرت سلمان ان کو روک دیتے یہاں تک کہ فجر سے پہلے کا وقت ہوگیا تو آپ کھڑے ہوئے وضو کیا اور چند رکعات ادا کیں۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت ابوالدراء (رض) نے ان سے کہا۔ آپ نے مجھے میری نماز سے روکا ہے۔ حضرت سلمان نے ان سے کہا۔ نماز پڑھو اور سو جاؤ۔ روزہ رکھو اور افطار کرو کیونکہ تمہارے اہل خانہ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔