(۳۵۸۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : لاَ یُقْبَضُ الْمُؤْمِنُ حَتَّی یَرَی الْبُشْرَی ، فَإِذَا قُبِضَ نَادَی ، فَلَیْسَ فِی الدَّارِ دَابَّۃٌ صَغِیرَۃٌ ، وَلاَ کَبِیرَۃٌ إِلاَّ ہِیَ تَسْمَعُ صَوْتَہُ إِلاَّ الثَّقَلَیْنِ : الْجِنَّ وَالإِنْسَ تَعَجَّلُوا بِہِ إِلَی أَرْحَمِ الرَّاحِمِینَ فَإِذَا وُضِعَ عَلَی سَرِیرِہِ ، قَالَ : مَا أَبْطَأَ مَا تَمْشُونَ ، فَإِذَا أُدْخِلَ فِی لَحْدِہِ أُقْعِدَ فَأُرِیَ مَقْعَدَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ ، وَمَا أَعَدَّ اللَّہُ لَہُ ، وَمُلِئَ قَبْرُہُ مِنْ رَوْحٍ وَرَیْحَانٍ وَمِسْکٍ ، قَالَ : فَیَقُولُ : یَا رَبِّ ، قَدِّمْنِی ، قَالَ : فَیُقَالَ : لَمْ یَأْنِ لَک ، إنَّ لَک إخْوَۃً وَأَخَوَاتٍ لَمَّا یَلْحَقُونَ ، وَلَکِنْ نَمْ قَرِیرَ الْعَیْنِ ، قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، مَا نَامَ نَائِمٌ شَابٌّ طَاعِمٌ نَاعِمٌ ، وَلاَ فَتَاۃٌ فِی الدُّنْیَا نَوْمَۃً بِأَقْصَرَ ، وَلاَ أَحْلَی مِنْ نَوْمَتِہِ حَتَّی یَرْفَعَ رَأْسَہُ إِلَی الْبُشْرَی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
(٣٥٨٤٥) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کی روح قبض نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ بشارت دیکھ لے۔ پھر جب اس کی روح قبض ہوتی ہے تو آواز دیتا ہے۔ گھر میں کوئی چھوٹا یا بڑا جانور نہیں ہوتا سوائے انس وجان کے مگر یہ کہ وہ اس کی آواز کو سن لیتا ہے۔ اس کو ارحم الراحمین کی طرف جلدی لے کر جاؤ۔ پھر جب اس کو تخت پر رکھا جاتا ہے تو کہتا ہے تم لوگ کس قدر آہستہ چلتے ہو ؟ پھر جب اس کو اس کی قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کو بٹھایا جاتا ہے اور اس کو جنت میں اس کا ٹھکانا اور اس کے لیے خدا کی طرف سے تیار سامان دکھایا جائے گا اور اس کی قبر کو رحمت، ریحان اور مشک سے بھر دیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے آگے بھیج دے۔ کہا جائے گا ابھی تیرا وقت نہیں ہے۔ تیرے کچھ بہن بھائی ہیں جو ابھی تک ساتھ نہیں ملے۔ لیکن تو آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے سوجا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ کوئی کھاتا پیتا، ناز ونعم والا نوجوان لڑکا یا لڑکی دنیا میں اس قدر میٹھی اور مختصر نیند نہیں سوتی جیسی وہ نیند ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اپنا سر بشارت کے لیے بلند کرے گا۔