(۳۵۹۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأعمش عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ فِی قَوْلِہِ : {یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا} قَالَ : التَّثْبِیتُ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا إذَا جَائَ الْمَلَکَانِ إِلَی الرَّجُلِ فِی الْقَبْرِ فَقَالاَ لَہُ : مَنْ رَبُّک ؟ فَقَالَ : رَبِّی اللَّہُ ، وَقَالاَ : مَا دِینُک ؟ قَالَ : دِینِی الإِسْلاَمُ ، قَالاَ : وَمَنْ نَبِیُّک ، قَالَ : مُحَمَّدٌ ، قَالَ : فَذَلِکَ التَّثْبِیتُ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا۔
(٣٥٩١٣) حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ انھوں نے ارشاد خداوندی { یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } کے بارے میں فرمایا : ” دنیوی زندگی میں ثابت قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ قبر میں جب دو فرشتے آدمی کے پاس آتے ہیں تو وہ دونوں اس آدمی سے کہتے ہیں : تیرا پروردگار کون ہے ؟ وہ آدمی جواب دیتا ہے : میرا پروردگار اللہ ہے۔ پھر وہ دونوں پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے ؟ یہ جواب دیتا ہے : میرا دین اسلام ہے۔ پھر یہ پوچھتے ہیں : تیرا نبی کون ہے ؟ یہ جواب دیتا ہے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ حضرت براء (رض) نے فرمایا : دنیوی زندگی میں ثابت قدمی سے یہی مراد ہے۔