(۳۵۹۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَنْتَرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ : أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ، قَالَ : ذِکْرُ اللہِ أَکْبَرُ ، وَمَا جَلَسَ قَوْمٌ فِی بَیْتٍ یَتَعَاطَوْنَ فِیہِ کِتَابَ اللہِ فِیمَا بَیْنَہُمْ ، وَیَتَدَارَسُونَہُ إِلاَّ أَظَلَّتْہُمَ الْمَلاَئِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا ، وَکَانُوا أَضْیَافَ اللہِ ، مَا دَامُوا فِیہِ ، حَتَّی یَخُوضُوا فِی حَدِیثٍ غَیْرِہِ۔
(٣٥٩٢٢) حضرت عنترہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اللہ کا ذکر سب سے بڑا عمل ہے۔ کوئی قوم کسی گھر میں بیٹھ کر آپس میں اللہ کی کتاب کی تدریس نہیں کرتے مگر یہ کہ فرشتے ان کو اپنے پروں کے ساتھ سایہ کرلیتے ہیں اور جب تک وہ اس عمل میں ہوتے ہیں وہ خدا کے مہمان ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں۔